لبنان سے شامی فوج کا انخلاء مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کی فوج لبنان میں انتیس سال تک موجود رہنے کے بعد واپس اپنے علاقے میں چلی گئی ہے۔ لبنان میں شامی انٹیلیجیینس کے سربراہ رستم غزالہ کو شام کے درالحکومت دمشق کی طرف جاتے دیکھا گیا ہے۔ منگل کو لبنان میں ایک خصوصی تقریب ہو گی جس میں شامی فوج کی لبنان سے انتیس سال بعد واپسی کا اعلان کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کا ایک وفد بیروت بھیجا جا رہا ہے جو اس بات کی تصدیق کرئے کہ شامی فوج لبنان سے چلی گئی ہے۔ دریں اثنا لبنان کی سیکیورٹی سروس کے سربراہ میجر جنرل جمیل سعید نے استعفی دے دیا ہے۔لبنان کی اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ جمیل سعید کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ شامی فوج کو لبنان سے تیس اپریل تک چلے جانا تھا لیکن وہ مقررہ وقت سے چار دن پہلے ہی واپس چلی گئی ہے۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد سے شام پر شدید بین الاقوامی دباؤ تھا کہ وہ لبنان سے اپنی فوج کو واپس بلا لے۔ لبنانی حزب اختلاف رفیق حریری کے قتل میں شام کو ملوث قرار دیتی رہی ہے جبکہ شام نے کئی بار تردید کی ہے کہ وہ اس قتل میں کسی بھی طرح ملوث نہیں ہے۔ اب اقوام متحدہ کی سالامتی کونسل اس قتل کی تحقیقات کرا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||