ایران: نئے ایٹمی بجلی گھرکی تعمیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے دوسرے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے سلسلے میں منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ایران اور یورپی یونین کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات چند ہی دنوں میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔ اس تجویز کردہ بجلی گھر کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں یہ بجلی گھر جنوب مغربی صوبے خوزستان میں تعمیر کیا جائے گا۔ امریکہ اور یورپی یونین نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ ایران نے اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام جاری رکھا ہوا ہے لیکن تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور مغربی ممالک مسلسل ایران کی غیر واضح جوہری سرگرمیوں پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیس بجلی گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ بی بی سی کے تہران میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بجلی گھر کی تعمیر کے منصوبوں کے اعلان کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ ایران تنقید کا رخ اب اس جانب موڑنا چاہتا ہو کہ اس کے پاس کوئی عملی نیوکلئیر پاور سٹیشنز موجود نہیں ہیں اور اس طریقے سے وہ اپنی یورنیم کی افژدگی کو منصفانہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا پہلا بجلی گھر بوشہر میں ہے۔ جس سے بجلی پیدا ہونے کا عمل اگلے سال سے شروع ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں ’بم دھماکے میں ایران ملوث تھا‘05 October, 2005 | آس پاس ایران ایٹمی پروگرام کے شواہد: یو این18 November, 2005 | آس پاس اہم ملکوں سے ایرانی سفیر واپس طلب02 November, 2005 | آس پاس نیوکلیئر: ایران کومزید مہلت22 November, 2005 | آس پاس حق سےمحروم نہیں کیا جا سکتا: ایران26 November, 2005 | آس پاس ایران میں زلزلہ، کئی ہلاک27 November, 2005 | آس پاس مذاکرات میں ایرانی عدم دلچسپی04 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||