BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 00:16 GMT 05:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیوکلیئر: ایران کومزید مہلت
آئی اے ای اے نے تجویز کیا ہے کہ یورنیئم کا افزودگی کا کام روس منتقل کر دیا جائے
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ اور تین بڑے یورپی ملکوں نے ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجنے کی کارروائی ملتوی کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کا اجلاس جمعرات کو ویانا میں ہو رہا ہے اور اب تک امید کی جا رہی تھی کے اس اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کو بھیجنے کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔
سلامتی کونسل ایران کے خلاف معاشی پابندیاں بھی عائد کر سکتی ہے۔

تاہم اب ایران سے مذاکرات کرنے والے سفارتکاروں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ایران کو مزید وقت دیا جائے گا تاکہ وہ آئی اے ای اے کی اس تجویز پر غور کر سکے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جوہری ایندھن کی پیدوار کو سب سے حساس حصہ یعنی یورینیئم کا افزودگی کو روس منتقل کر دے۔

اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ ایران کو یورینیئم کی افزودگی کے عمل کو جاری رکھنے کی اجازت ہو گی۔ تاہم ایران دو ہفتے پہلے اس تجویز کے متعارف کرائے جانے کے بعد سے اس کی مخالفت کر رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا پورا حق ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجنے کے لیے مطلوبہ ووٹ موجود ہیں تاہم یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا سفارتی دباؤ ایران کو مذاکرات کی طرف واپس آنے پر راضی کر سکتا ہے۔

دوسری طرف یورپی یونین کے ایک سفارتکار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف قرار داد منظور نہیں کرائی جا سکتی کیونکہ روس اور چین ایسی کسی بھی قرارداد کے مخالف ہیں۔

ایران کی امریکی اور یورپی یونین کے تین بڑے ملکوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی سے براہ مذاکرات اگست میں اس وقت منقطع ہو گئے تھے جب ایران نے اصفہان میں واقع اپنے جوہری پلانٹ میں یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی تھی۔

ستمبر میں آئی اے ای اے کے بورڈ نے ایران سے کہا تھا کہ وہ جوہری ایندھن پر کام بند کر دے اور اسے دھمکی دی تھے کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو معاملہ سلامتی کونسل کو بھیج دیا جائے گا۔

اتوار کے روز ایران کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا جائے تو حکومت آئی اے ای اے کو جوہری تنصیبات کا ’مخِتصر نوٹس‘ پر معائنہ کرانے سے انکار کر دے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے 197 ارکین میں سے 187 نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جب کہ امریکہ مسلسل یہ الزام لگا رہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد