’ کونسل کورپورٹ کیا تو تعاون ختم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا جائے تو حکومت آئی اے ای اے کو جوہری تنصیبات کا ’مخِتصر نوٹس‘ پر معائنہ کرانے سے انکار کر دے۔ ایران کہ پارلیمنٹ کے 197 ارکین میں سے 187 نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا۔پارلیمنٹ کی یہ قرارداد اب گارڈین کونسل کے پاس جائے گی جو بارہ علماء پر مشتمل ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق گارڈین کونسل یا مجلس بزرگان سے قرارداد کی منظوری منگل کو متوقع ہے۔ پارلیمنٹ میں قرار داد پر ووٹنگ کی کارروائی سرکاری میڈیا پر براہ راست نشر کی گئی۔ نامہ نگاروں کے مطابق قرار داد میں ایرانی مذاکرات کار علی لاریجانی کی طرف سے دی جانی والی اُس دھمکی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا گیا تو ردِ عمل بھی ’باغیانہ‘ ہو گا۔ ایرانی پارلیمان کی قرارداد ان سفارتی بیانات کو آئین سازی کے میدان میں لے آئی ہے جس کی پیروی کرنا حکومت کے لیے لازمی ہوگا۔ اقوام متحدہ کے جوہری ادارہ آئی اے ای اے کا اجلاس جمعرات کو ویانا میں ہو رہا ہے جس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کو بھیجنے کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔ سلامتی کونسل ایران کے خلاف معاشی پابندیاں بھی عائد کر سکتی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جب کہ امریکہ مسلسل یہ الزام لگا رہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’ایران کے ساتھ ڈِیل نہیں ہوئی‘11 November, 2005 | آس پاس یورپی یونین: ایرانی پیشکش کا جائزہ 07 November, 2005 | آس پاس کوفی عنان نے ایران کا دورہ رد کردیا05 November, 2005 | آس پاس ایران:جوہری معائنے پر رضامند03 November, 2005 | آس پاس سلامتی کونسل: ایران کی مذمت29 October, 2005 | آس پاس احمدی نژاد کے بیان کی مذمت28 October, 2005 | آس پاس برطانوی الزام جھوٹ ہے: ایران06 October, 2005 | آس پاس ’ایران سے جوہری تعاون ختم کریں‘03 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||