ایران کی حکومت کو تنقید کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے دارلحکومت تہران میں جہاز کے گر کر تباہ ہونے سےایک سو دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اڑسٹھ صحافی بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طیارے کی پرواز منگل کی صبح فنی خرابی کے باعث کئی مرتبہ گھنٹوں تک ملتوی کی گئی۔ ایران کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جہاز کے پائلٹ نے دو مرتبہ مہرآباد ائرپورٹ پر اترنے کی اجازت مانگی لیکن ائرپورٹ کے مصروف ہونے کی وجہ سے اسے یہ اجازت نہیں دی گئی۔ فوجی حکام نے کسی بھی قسم کی کوتاہی کی تردید کی ہے۔ بدھ کے روز تہران میں ایک سرکاری وکیل، سید مرتضوی نے کہا کہ حادثے کی جگہ کے قریب ایک عدالت اس حادثے کی تفتیش کرے گی۔ مسٹر مرتضوی نے کہا کہ ’ہم نے ائرپورٹ کی عدالت کو یہ کام سونپا ہے تاکہ جو کوئی بھی اس حادثے کا ذمہ دار ہے اس کی نشاندھی ہوسکے۔‘ لیکن اس حادثے کی تفتیش کرنے والوں کو ’بلیک باکس‘ کی مدد حاصل نہیں ہوگی۔ جہاز کی تکنیکی معلومات کا ریکارڈ رکھنے والا یہ آلہ عام طور پر جہاز کی دم میں نصب ہوتا ہے۔ ایرانی فوج کے ڈپٹی کمانڈر، بریگیڈیر جنرل، محمد حسن نامی نے کہا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے فوجی طیارے میں یہ آلہ نصب نہیں تھا۔ C-130 ساخت کا یہ بار برداری کرنے والا طیارہ تہران کے جنوب مغرب میں ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ایک دس منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں اڑسٹھ صحافی بھی شامل ہیں۔ یہ صحافی ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں جاری فوجی مشقوں کی رپورٹنگ کرنے جارہے تھے۔ ایران کے وزیر ثقافت، محمد حسین سفرہاراندی نے اس حادثے کو صحافی برادری کے لیے ایک المیہ قرار دیتے ہوئے یوم غم منانے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ میں جہاز کی پرواز کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کی کمی کا ذکر بھی آرہا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||