’معاملہ نازک ہے، بحرانی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے صدر دفتر میں بورڈ کا اجلاس آج دوبارہ شروع ہونے والا ہے تاکہ یہ فیصلہ ہوسکے کہ آیا ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کیا جائے۔ آی اے ای اے کے سربراہ محمد البردای نے کہا ہے کہ یہ ایک نازک مرحلہ ہے لیکن بحرانی حالت نہیں ہے۔ سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ ہو یا نہ ہو ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ قدم آگے بڑھانے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ ہے سفارت کاری۔ اور اب بھی سب کے لیے کھڑکی تھوڑی سی کھلی ہے۔ اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ایران کے مذاکرات کار علی لاریجانی نے کہا کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ امریکی سفیر گریگری شُلٹر نے کہا ایران کے جوہری ارادوں میں فوجی عنصر کے بارے میں پریشان کن شہادتیں ملی ہیں اور وقت آچکا ہے کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے۔ گریگری شُلٹر نے کہا کہ قرارداد کا ایک مسودہ اجلاس کے شرکاء کو دے دیا گیا ہے اور اسے نہ صرف یورپی یونین کے تین ملکوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ امریکہ ، روس ، چین بھی اس کے حمایت کر رہے ہیں۔ روس اور چین کی تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے قرار داد کا یہ مسودہ پچھلے چند دنوں میں ہلکے سے ہلکا کردیا گیا ہے۔ اس میں کسی تادیبی اقدام کی بات نہیں کی گئی ہے اور سلامتی کونسل مارچ کے مہینے سے پہلے کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ اس کے باوجود ایٹمی توانائی کی ایجسنی میں ایران کے سفیر علی اصغر سلطانیہ نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہوا تو ایک تاریخی غلطی کی جائےگی۔ اور ایران کو مجبور کردیا جاۓ گا کہ صنعتی پیمانے پر جوہری افزودگی شروع کردے۔ ایرانی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل والا فیصلہ کیا گیا تو اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کے معائنے کا سمجھوتہ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور ہمیں صدام حسین یاد آرہے ہیں جنہوں نے دلائل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے وہ چھپا سکیں۔ | اسی بارے میں ویانا اجلاس: ایران کے معاملے پرغور02 February, 2006 | آس پاس ایران کےمسئلے کا سفارتی حل چاہیے01 February, 2006 | انڈیا افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس بش جنگ کےشوقین ہیں: احمدی نژاد01 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||