ایران کےمسئلے کا سفارتی حل چاہیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل ہو جائے گا اور اسے سلامتی کونسل میں بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ منموہن سنگھ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر ایران کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا تو بھارت کا موقف کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے غور کریں گے۔ بھارت میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ملفورڈ پر گزشتہ ہفتے اس بیان کے بعد سخت تنقید کی گئی تھی کہ اگر بھارت نے ایران کے معاملے میں امریکہ کی حمایت نہ کی تو اس کو امریکہ سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائےگا۔ ملفورڈ نے کہا تھا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا تھا۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا تھا کہ ملفورڈ محض امریکی کانگریس میں ایران کے ’متنازعہ‘ جوہری پروگرام کے بارے میں پائے جانے والے شدید جذبات کی عکاسی کر رہے تھے۔ | اسی بارے میں ہندوستان کی کشمکش30 January, 2006 | انڈیا ایران تنازعہ:امریکی سفیر کی طلبی27 January, 2006 | انڈیا بھارت-امریکہ جوہری معاہدہ اور مشکلات21 January, 2006 | انڈیا گیس: بھارت، ایران بات چیت کا آغاز28 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||