ویانا اجلاس: ایران کے معاملے پرغور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ کے ارکان ایک قرار داد کے مسودے پر غور کررہے ہیں جس میں ایران کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا کہا گیا ہے۔ جرمنی سمیت سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین نے اس قرار داد کا مسودہ تیار کیا ہے اور آئی اے ای اے کے ارکان اس پر بات چیت کے لیے جمعرات کو ویانا میں اجلاس کریں گے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ’جوہری معاملے پر ایران کسی کے رعب میں نہیں آئے گا‘۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا تو وہ معطل کردہ جوہری سرگرمیاں بھی بحال کردے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرار داد کا متن ایک طرح سے ایک سمجھوتہ ہے جس میں اقوام متحدہ کی جانب سے کسی بھی طرح کی کارروائی کے لیے کم از کم مارچ کا وقت رکھا گیا ہے۔ چھ ممالک نے پیر کے روز اس مسودے پر اتفاق کیا تھا اور اگلے دو روز کے دوران اس میں ردوبدل کیا جاتا رہا ہے۔ روس کا اصرار تھا کہ اس میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے پر براہ راست زور نہ دیا جائے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس ’سمجھوتے‘ سے اتفاق کررہا ہے تاکہ یہ ثابت کرسکے کہ وہ بھی مسئلہ کا سیاسی حل چاہتا ہے، ایسا حل جس پر مشترکہ طور پر تمام ممالک راضی ہوں۔ بورڈ کے سامنے پیش کی جانے والی قرار داد کے مطابق ’ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ یہ سمجھے کہ بورڈ کو ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں اعتماد نہیں ہے‘۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سلسلے میں اگلے اقدامات کیا ہوں گے۔ پروگرام کے مطابق ممکنہ طور پر فروری میں آئی اے ای اے کے بورڈ کی ایمرجنسی میٹنگ متوقع ہے جس میں ایران کا مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھانے پر غور ہوگا۔ سولہ فروری کو روس کے مجوزہ منصوبے پر ایران اور روس کے مذاکرات شروع ہوں گے اور مارچ میں یہ معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا جو کہ پھر حالات کے مطابق کارروائی کرے گی۔ اس قرار داد میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آئی اے ای اے سے تعاون کرے جو کہ انتہائی ضروری اقدام ہے اور جس میں پہلے ہی کافی تعطل آگیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی سرگرمیوں کے بارے میں فوجی نقطہ نظر سے صفائی پیش کرے۔ بدھ کو قومی ٹی وی پر ایک دبنگ تقریر میں ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران پر امن جوہری توانائی پیدا کرنے کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران کے پہلے ایٹمی ری ایکٹر کی سائیٹ پر اپنی تقریر میں انہوں نے کہا ’میں ان جعلی سپر پاور ممالک کو بتا رہا ہوں کہ ایران ستائیس برس پہلے آزاد ہوا تھا اور جوہری سرگرمیوں کے معاملے پر بھی وہ اپنی آزادی برقرار رکھے گا‘۔ دوسری جانب امریکی صدر نے اتنی ہی دبنگ اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ’ایران دنیا کے ساتھ باغیانہ رویہ رکھ رہا اور اور اقوام عالم کو چاہیے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکیں‘۔ ایران کا ہمیشہ سے یہ اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں تیل پرانحصار ختم کرناہوگا: صدربش01 February, 2006 | آس پاس اسلام اور جمہوریت 01 February, 2006 | Debate افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس ایران کےمسئلے کا سفارتی حل چاہیے01 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||