تیل پرانحصار ختم کرناہوگا: صدربش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے سالانہ خطاب میں متنبہ کیا ہے کہ اگر بیرونی خطروں کا مقابلہ سر اٹھا کر نہ کیا گیا تو امریکہ ان خطروں اور زوال سے نہیں بچ سکتا۔ سلامتی کے مسائل صدر بش کی تقریر پر چھائے ہوئے تھے لیکن انہوں نہ آزادی کے دفاع کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی پیش رفت ہمارے دور کی سب سے اہم بات ہے۔ انہوں نے داخلی امور پر بھی کھل کر بات کی کیونکہ یہ ان کی ریپبلکن پارٹی میں ہونے والے انتخابات کا سال ہے۔ انہوں انسانی کلونگ پر پابندی کا ذکر کیا اور بہت زور دے کر کہا کہ امریکہ کو بیرونی تیل پر انحصار ختم کرنا ہو گا۔ خود ان کے اپنے الفاظ میں ’تیل کی لت‘ سے نجات حاصل کرنی ہو گی کیونکہ اس کے لیے ہمیں غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ عراق، ایران اور حماس کا ذکر کرتے ہوئے صدر بش کا لہجہ سخت تھا۔ انہوں نے ان ممالک اور حماس کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعادہ کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ عراق میں امریکہ کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ جنگ کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراق میں اپنے اتحادیوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس ملک میں ایک چھوٹے سے گروپ نے پورے ملک اور اس کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایران کے ایّمی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساری دنیا پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دے۔ حماس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور خود کو غیر مسلح کرے اس کے بعد ہی اس سے کوئی بات ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے دوسرے داخلی مسائک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر ’سپائینگ سکینڈل‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ ملک کو اس کی ضرورت ہے اور انہوں نے اسی لیے اس کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا ہمیں دہشت گردوں کےحملے روکنے کے لیے اس کی ضرورت ہے اور یہ پالیسی جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں کترینا انکوائری: ’وائٹ ہاؤس حائل‘25 January, 2006 | آس پاس بش مارچ میں پاکستان آئیں گے24 January, 2006 | آس پاس گوانتانامو: جرمن چانسلر کا بیان رد13 January, 2006 | آس پاس بش کے امیدوار سینٹ کے سامنے09 January, 2006 | آس پاس سری لنکا: بحریہ کے 15 اہلکار ہلاک07 January, 2006 | آس پاس امریکی فوج:عراق پالیسی کی مخالف03 January, 2006 | آس پاس پیٹریاٹ ایکٹ پر صدربش کی ہزیمت23 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||