پیٹریاٹ ایکٹ پر صدربش کی ہزیمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس نے امریکی صدر کی خواہش کے برعکس انسداد دہشت گردی قانون پیٹریاٹ ایکٹ میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی ہے ۔ صدر جارج بش نے اس قانون کی غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی حمایت کی تھی۔اس قانون کی کچھ شقیں اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والی تھیں۔ شہری حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیمیں پیٹریاٹ ایکٹ پر شدید تنقید کرتی رہی ہیں کیوں کہ اس کے تحت حکومت کو شہریوں کی تلاشی اور نگرانی کے وسیع اختیارات ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ڈیموکریٹ دن بدن پیٹریاٹ ایکٹ کے مخالف ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس قانون کی آڑ میں لوگوں کی شخصی آزادیوں کو کم کیا جا رہا ہے۔ امریکی کانگریس کی طرف سے اس قانون کو صرف ایک مہینے کی توسیع دینے کا مطلب یہ ہے کہ اب جنوری میں پھر بحث ہو گی۔ امریکی سینٹ نے اس قانون میں چھ مہینے کی توسیع کر دی تھی لیکن گانگریس نے صرف ایک ماہ کی توسیع پر آمادہ ہوئی۔ صدر بش کا موقف ہے کہ یہ قانون دہشت گردی کے خلاف اہم ہتھیار ہے۔ اس قانون کے تحت فون ٹیپ کیے جاسکتے ہیں، ہسپتالوں اور تجارتی اداروں سے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیے جاسکتے ہیں حتکہ لائبریریوں سے شہریوں کی جانب سے لے جائی جانے والی کتابوں کا ریکارڈ طلب کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’پیٹریاٹ شقوں میں تجدید نامنظور‘16 December, 2005 | آس پاس پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف 18 December, 2005 | آس پاس امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول پینٹاگون ایک اور سکینڈل کی زد میں29 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||