امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدر بش کے سیکورٹی اہلکاروں کو ملک کےاندر لوگوں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دینے کے الزام نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کو اس بات کی اجازت دی گئی تھی کہ بغیر کسی وارنٹ کے بڑی تعداد میں لوگوں کی جاسوسی کرے۔ امریکہ میں این ایس اے کو عام طور پر لوگوں کی جاسوسی کرنے کی ممانعت ہے۔ اس سے قبل امریکی سرزمین پر نگرانی صرف غیر ملکی سفارت خانوں تک محدود تھی۔ ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جان میکنن نے اس بارے میں وضاحت طلب کر لی ہے جبکہ سینٹ کی جیوڈشری کمیٹی کے چئر مین سینیٹر ارلن سپیکٹر نے اسے’نامناسب‘ قرار دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر بش نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد ایک ایسے خفیہ صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے ایجنسی عدالت کی اجازت کے بغیر سینکڑوں لوگوں کی بین الاقوامی ٹیلی فون کالوں اور ای میلز کو ٹریک کر سکے گی۔ تنقید کرنے والوں سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اس قسم کی نگرانی نے قانونی تقاضوں کی قانونی حد تو پار نہیں کر لی ہے؟ امریکی قانون کا تقاضہ ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو اس کام کے لیے ایک خفیہ عدالت سے اجازت لینی ہوتی ہے جسے فارن انٹیلیجنس سرویلینس کورٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے افراد نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی تصدیق کرنے یا اس کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس سے جب ٹی وی کے ایک پروگرام میں اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’صدر نے ہر قدم قانون کے مطابق اٹھایا۔ انہوں نے امریکیوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنی آئینی حدود اور قانون دونوں کا خیال رکھا‘۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو مشکل وقت آن پڑا ہے یہاں تک کہ اپنے ری پبلکن حامیوں کو بھی انہیں یہ بات باور کروانے میں مشکل پیش آرہی ہے کہ دہشت گردی کی جنگ کے نام پہ اٹھائے جانے والے اقدامات درست ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ میں ہزارویں سزائے موت02 December, 2005 | آس پاس ریڈکراس کی رسائی محدود: امریکہ09 December, 2005 | آس پاس ’امریکہ حکم دینے سے پرہیز کرے‘15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||