ریڈکراس کی رسائی محدود: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی دہشت گردی مخالف جنگ میں حراست میں لیے جانے والے تمام افراد تک امدادی ادارے ریڈ کراس کی رسائی نہیں ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے قانونی مشیر جان بیلنِگر نے کہا کہ ریڈ کراس کی رسائی ان افراد تک ہے جو خلیج گوانتانامو میں قید ہیں لیکن ان لوگوں تک نہیں جنہیں کہیں اور رکھا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ دیگر افراد کو کہاں رکھا گیا ہے۔ جان بیلنِگر نے یہ بیان جنیوا میں دیا۔ انہوں نے ان رپورٹوں کے بارے میں کہ امریکہ مشرقی یورپ میں خفیہ حراستی مراکز چلارہا ہے، کچھ نہیں کہا۔ تاہم جان بیلِنگر نے کہا کہ اس طرح کی کچھ رپورٹیں مضحکہ خیز حد تک غلط ہیں۔ ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسے معلوم رہا ہے کہ کئی افراد امریکی حراست میں ہیں اور ان کے بارے میں امریکی حکومت سے پوچھتا رہا ہے اور آگے بھی ایسا کرتا رہا ہے۔ دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس یورپ کے دورے پر ہیں جہاں کئی ممالک میں ان کو امریکی خفیہ حراستی مراکز کے اخلاقی اور قانونی جواز پر سوالات کا کئی دنوں سے سامنا رہا ہے۔ جمعرات کو نیٹو اور یورپی یونین کے اہلکاروں نے وزیر خارجہ رائیس کے اس بیان پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکی تفتیش کار زیرحراست قیدیوں کی تفتیش کے دوران تشدد کے استعمال سے گریز کرنے کے عالمی قوانین کے پابند ہیں۔ | اسی بارے میں مشتبہ دہشت گرد کی اپیل07 December, 2005 | آس پاس رائس: انکار بھی، اعتراف بھی05 December, 2005 | آس پاس سی آئی اے تنازعہ، رائس مرکل ملاقات06 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||