BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 December, 2005, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس: انکار بھی، اعتراف بھی
جرمنی
جرمنی میں بھی سی آئی اے کے طیارے اترنے کی اطلاعات ہیں
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشتبہ دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے طیاروں کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا ہے لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ان پر کوئی تشدد ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کی حوالگی اور منتقلی سے لوگوں کی جانیں بچی ہیں۔

مس رائس نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ عشروں سے قیدیوں کی سپردگی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ سپردگی کے عمل سے دہشت گرد قابلِ اثر نہیں رہتے اور جانیں بچ جاتی ہیں اور یہ منتقلیاں بین الاقومی قانون کے تحت جائز ہیں‘۔

کونڈالیزا رائس کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشتگردوں کو شکست دینے کے لیے ہر قانونی ہتھیار استعمال کرے گا۔تاہم انہوں نے اس سوال کا بلاواسطہ جواب نہیں دیا کہ کیا سی آئی اے امریکہ سے باہر جیلیں چلاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’ ہم اپنے خفیہ ذرائع، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فوجی آپریشن کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کر سکتے اور ہمیں امید ہے کہ دیگر اقوام بھی یہی نظریہ رکھیں گی‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کلائیو مائرز کا کہنا ہے کہ کونڈالیزا رائس نے امریکی پالیسی کا زوردار طریقے سے دفاع کیا ہے اور وہ اپنے دورہ یورپ کے دوران یورپی ممالک پر زور دیں گی کہ وہ امریکہ سے تعاون کریں نہ کہ تنقید ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد