رائس: انکار بھی، اعتراف بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشتبہ دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے طیاروں کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا ہے لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ان پر کوئی تشدد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی حوالگی اور منتقلی سے لوگوں کی جانیں بچی ہیں۔ مس رائس نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ عشروں سے قیدیوں کی سپردگی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ سپردگی کے عمل سے دہشت گرد قابلِ اثر نہیں رہتے اور جانیں بچ جاتی ہیں اور یہ منتقلیاں بین الاقومی قانون کے تحت جائز ہیں‘۔ کونڈالیزا رائس کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشتگردوں کو شکست دینے کے لیے ہر قانونی ہتھیار استعمال کرے گا۔تاہم انہوں نے اس سوال کا بلاواسطہ جواب نہیں دیا کہ کیا سی آئی اے امریکہ سے باہر جیلیں چلاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم اپنے خفیہ ذرائع، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فوجی آپریشن کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کر سکتے اور ہمیں امید ہے کہ دیگر اقوام بھی یہی نظریہ رکھیں گی‘۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کلائیو مائرز کا کہنا ہے کہ کونڈالیزا رائس نے امریکی پالیسی کا زوردار طریقے سے دفاع کیا ہے اور وہ اپنے دورہ یورپ کے دوران یورپی ممالک پر زور دیں گی کہ وہ امریکہ سے تعاون کریں نہ کہ تنقید ۔ | اسی بارے میں سی آئی اے: یورپی پارلیمنٹ کا غصہ02 December, 2005 | آس پاس سی آئی اے جیلیں، جہازجرمنی بھی آئے04 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||