BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 December, 2005, 04:01 GMT 09:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی آئی اے جیلیں، جہازجرمنی بھی آئے
امریکی اڈے
امریکہ نے مبینہ طور پر جرمنی میں اپنے اڈے کو مبینہ دہشگروں کو لانے لے جانے کے لیے استعمال کیا۔
جرمنی کی حکومت کے پاس امریکی جہازوں 437 ایسی پروازوں کا ریکارڈ موجود ہے جن میں شاید مبینہ دہشگردوں کوجرمنی میں واقع امریکی ہوائی اڈوں پر لایا گیا۔

جرمنی کے معروف ہفتہ روزہ ڈی سپعگل کے مطابق جرمنی کی حکومت کے پاس 2002 اور 2003 میں امریکی جہازوں کی 437 ایسی پروازوں کا ریکارڈ ہے جو شاید مشتبہ دہشگرووں کو جرمنی میں واقع امریکی ہوائی اڈوں پر لائے گئے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جرمنی کی حکومت امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس سے ، جو سوموار سے جرمنی کا دورہ شروع کر رہی ہے، خفیہ جیلوں کا معاملہ اٹھائے گی۔

امریکی حکومت نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کی ہے جن کے مطابق سی آئی اے نے ساری دنیا میں خفیہ جیلوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے اور گوانتانوموبے ، افغانستان ، تھائی لینڈ کے علاوہ یورپ کے ملکوں میں بھی خفیہ جیلیں قائم کر رکھی ہیں۔

ادھروزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے اس خط کا جواب دیں گی جس میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے بیرون ممالک خاص طور پر مشرقی یورپ میں خفیہ قید خانے بنائے ہوئے ہیں۔

ایک امریکن سول لبرٹیز یونین نامی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشتبہ قیدیوں کو امریکی قانونی حدود سے باہر کے معاملے کو عدالت میں لے کر جائے گی۔

امریکن سول لبرٹیز یونین نے کہا کہ وہ سی آئی اے کے خلاف مجـوزہ قانونی چارہ جوئی میں یہ موقف اختیار کرے گی کہ ادارے نے اپنے ایک ایجنٹ کو ایک معصوم شخص کو اغوا کرنے کے بعد بے حوش کرنے اور افغانستان میں سی آئی اے کی ایک خفیہ جیل میں پہنچانے کی منظوری دے کر امریکی اور عالمی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی ہے۔‘

انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم نے اغوا کیے جانے والے شخص کا نام اور قومیت نہیں بتائی تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ شخص اگلے ہفتے ایک پریس کانفرنس میں سی آئی اے خلاف الزامات کی تفصیل بتائے گا۔

سی آئی اے کی قید میں لیے جانے والے افراد میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ پکڑنے کے بعد انہیں شام اور مصر لے جایا گیا تھا جہاں ان پر تشدد کیا گیا تھا۔

امریکی اداروں کے اس موقف کے بارے میں ایڈم بروک کا خیال ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہوگا کیونکہ خفیہ ادارے کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے افسران کو کھلی عدالت میں اپنی خفیہ کارروائیوں کا دفاع کرنا پڑے اور یہ کارروائیاں عام لوگوں کے سامنے آئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد