صدام دور جیسا حال ہے: علاوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ عراق میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حالت اتنی ہی بری ہے جتنی ہے صدام حسین کے دور میں تھی۔ برطانیہ کے اخبار ’آبزرور‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خفیہ بنکروں میں خفیہ پولیس کے ہاتھوں عراقیوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ میں ملیشیا کسی خوف کے بغیر جو چاہے کر رہی ہے اور اب یہ پولیس میں بھی شامل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کو ساری حکومت میں پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ مبصرین کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کا بیان آنے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے ان کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔
’لوگ وہی کر رہے ہیں جو صدام حسین کے دور میں ہوا اور کئی جگہ تو اس سے بھی برا‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’وہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم صدام حسین کے خلاف لڑے تھے اور اب ہم یہی چیزیں دوبارہ دیکھ رہے ہیں‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس برے حال کی وجہ سے عراق کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اس خطے کا مرکز ہے اور اگر یہاں چیزیں غلط ہو گئیں تو نہ یورپ محفوظ ہو گا اور نہ ہی امریکہ۔ علاوی عراق کے پہلے عبوری وزیرِ اعظم تھے لیکن وہ جنوری میں ہونے والے انتخابات میں شکست کھا گئے اور ان کی جگہ ابراہیم الجعفری اقتدار میں آ گئے۔ |
اسی بارے میں عراق: سیاسی بحران خاتمے کے قریب 28 April, 2005 | آس پاس پر امن رہیں: ایاد علاوی کی اپیل17 April, 2005 | آس پاس عراق کے نئے شیعہ وزیراعظم07 April, 2005 | آس پاس عراق: کون کیا ہے؟29 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||