پر امن رہیں: ایاد علاوی کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی سکیورٹی فورسز نے مدائن کو محصور بنا کر اندر داخل ہو چکی ہیں اور بعض اطلاعات کے مطابق گھر گھر تلاشی بھی شروع کی جا چکی ہے۔ جب کہ دوسری طرف عراق کے نگراں وزیراعظم ایاد علاوی نے متام فرقوں سے اپیل کی ہے شعیوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے میں پُر امن رہیں اور نتائج کا انتظار کریں۔ سنی شدت پسندوں کی جانب سے اجتماعی یرغمال بنائے جانے کا اس واقعے کو ایاد علاوی نے ’کبیہ سفاکی‘ قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراقی اور امریکی افواج نے مدائن شہر میں یرغمال بنائے گئے افراد کی بازیابی کے لیے آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ عراقی کمانڈوز نے شہر کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے تاہم یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ شہر کے اندر صورتِ حال کیا ہے۔ دوسری خبروں کے مطابق خود کار ہتھیاروں سے مسلح سینکڑوں عراقی فوجییوں اور فوجی گاڑیوں نے مدائن شہر میں داخل ہونے کی کوشش شروع کر دی ہے جبکہ امریکی افواج نے شہر میں داخل ہونے والے دو اہم پلوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم اے ایف پی نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شدت پسند شدید مزاحمت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مدائن شہر میں مسلح سنّیوں نے شہر میں رہنے والے کچھ شیعوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور شیعوں کے شہر نہ چھوڑنے کی صورت میں یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ کتنے افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ مدائن بغداد سے سترہ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||