گیارہ قیدی امریکی حراست سے فرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام نے گیارہ قیدیوں کی امریکی حراست سے فرار ہونے کی تصدیق کی ہے۔ عراقی قیدی سوموار کو ام قصر کے قریب حراست سنٹر سے عراقی مزاحمت کارروں کے حملے کے ایک دن بعد فرار ہوئے۔ عراق میں امریکی فوج کا کہنا کہ اس نے فرار ہونے والوں میں سے دس کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک ابھی بھی لاپتہ ہے۔ ادھر سنیچر کو مزاحمت کاروں کے عراقی فورسز پر تازہ حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ پولیس اہلکار بغداد کے شمال میں بعقوبہ شہر میں ایک ریسٹورنٹ پر حملے کے دوران جاں بحق ہوئے۔ اس سے قبل کرکک میں دو الگ واقعات میں پولیس کا ایک اہلکار اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ عراق کے دوسرے شہروں سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران عراق میں حملوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے جن میں بغداد میں دو خود کش حملے بھی شامل ہیں جن میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دریں اثنا بغداد کے جنوبی شہر مدائن سے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے کئی شیعہ مسلمانوں کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تین افراد اغوا ہوئے ہیں لیکن دوسری اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اغوا ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ سنی قبائل سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہ کا کہنا ہے کہ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ شہر سے نکل جائیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مقامی شیعہ اور سنی برادری کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||