عراق حملوں میں نو افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مزاحمت کاروں کے عراقی فورسز پر تازہ حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ پولیس اہلکار بغداد کے شمال میں بعقوبہ شہر میں ایک رسٹورنٹ پر حملے کے دوران جاں بحق ہوئے۔ اس سے قبل کرکک میں دو الگ واقعات میں پولیس کا ایک اہلکار اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ عراق کے دوسرے شہروں سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران عراق میں حملوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے جن میں بغداد میں دو خود کش حملے بھی شامل ہیں جن میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دریں اثنا بغداد کے جنوبی شہر مدائن سے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے کئی شیعہ مسلمانوں کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تین افراد اغوا ہوئے ہیں لیکن دوسری اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اغوا ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ سنی قبائل سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہ کا کہنا ہے کہ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ شہر سے نکل جائیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مقامی شیعہ اور سنی برادری کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||