سی آئی اے: یورپی پارلیمنٹ کا غصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے ان اطلاعات کی صحیح طور پر تحقیق نہ کرنے پر یورپی اتحاد کے ممالک پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جن کے مطابق امریکہ کا خفیہ ادارے سی آئی اے مشرقی یورپ کی خفیہ جیلوں میں زیرِ حراست ملزمان پر ایذا رسانی کر رہا ہے۔ منگل کو برطانیہ نے یورپی ممالک کی جانب سے ایک خط میں امریکہ سے ان اطلاعات کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا تھا لیکن فی الحال امریکی حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یورپی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ خط کافی نہیں تھا اور یورپی ممالک اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ یورپی پارلیمان اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ قانونی طور پر اپنے اختیارات کے تحت ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر سکتی ہے یا نہیں جو اس معاملے کی جانچ کرے۔ یورپی پارلیمان چاہتی ہے کہ ان الزامات کی مفصل چھان بین ہو کہ آیا امریکہ کا خیفہ ادارہ سی آئی اے مشرقی یورپ کے ممالک میں خفیہ جیلوں میں دہشت گردی کے مبینہ ملزمان کو زیرِ حراست پوچھ گچھ کے دوران ایذا پہنچا رہا ہے یا نہیں۔ کچھ دن پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ وہ ان اطلاعات کی تحقیق کرے گا کہ سی آئی اے مشرقی یورپ کے ممالک میں خفیہ جیلیں چلاتا رہا ہے اور اس نے زیرِ حراست افراد کو لے جانے والے طیاروں نے یورپی ہوائی اڈے استعمال کیے۔ امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈولیزا رائس نے جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹین میئر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان دعوؤں کی تحقیقات کریں گی۔ مس رائس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کے خفیہ جیلیں چلانے کے حوالے سے یورپی یونین کے خدشات جائز ہیں اور ان پر ردِ عمل کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ جرمنی میں میڈیا کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو ادھر ادھر لانے اور لے جانے کی غرض سے سی آئی اے نے جرمنی کا ہوائی اڈہ استعمال کیا تھا۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ جو حال ہی میں اس عہدے پر مقرر کیے گئے ہیں، امریکہ کے دورے کے دوران سی آئی اے کی جیلوں کے حوالے سے اپنی امریکی ہم منصب سے بات چیت کی تھی۔ انہوں نے بعد میں بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ یورپی اتحاد کو فوری اور تفصیلی جواب سے آگاہ کریں گی۔ مس رائس کے ترجمان نے بعد میں یہ بھی کہا کہ امریکہ ان الزامات پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا مشرقی یورپ میں سی آئی اے کی خفیہ جیلیں تھیں یا نہیں۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور ان پر کاربند ہے۔ جرمنی میں اخبارات کا دعوی ہے کہ سی آئی اے کے طیاروں نے زیرِ حراست افراد کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی غرض سے جرمنی کے ہوائی اڈوں کو اسی سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا۔ | اسی بارے میں خفیہ جیلیں: امریکہ تحقیق کرے گا29 November, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: تحقیقات کا آغاز09 November, 2005 | آس پاس سی آئی اے کی دنیا بھر میں جیلیں03 November, 2005 | آس پاس صدر بش کی دوستی کا امتحان20 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||