خفیہ جیلیں: تحقیقات کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سراغ رسانی کے ادارے سی آئی اے نے ان دعووں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ یہ ادارہ بیرون ملک خفیہ جیلیں چلاتا ہے۔ سی آئی اے کے کچھ اہلکاروں کے حوالے سے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان تحقیقات کا مرکز خفیہ معلومات کا لیِک کیا جانا ہوگا۔ پچھلے ہفتے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ یہ ادارہ نامعلوم مشرقی یورپی ممالک میں مشتبہ دہشت گردوں کو رکھنے کے لئے خفیہ حراستی مراکز چلاتا ہے۔ بش انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی وضاحت دینے سے انکار کیا ہے۔منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ کونڈیلیزا رائس نے اس سلسلے میں ایک سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اتنا کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف ایک ’مختلف نوعیت کی جنگ‘ کررہا ہے اور یہ کہ اسے اپنا دفاع کرنا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار فرگل پارکنسن کے مطابق بش انتظامیہ کی طرف سے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہ کرنے سے ایسے افواہوں نے جنم لے لیا ہے کہ شائد ایسی جیلیں واقعی موجود ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی آئی اے کے کچھ ایسے اپلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ادارے نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو اس سلسلے میں ممکنہ لیِک کے متعلق تحقیقات کے لئے کہا ہے۔ اب جسٹس ڈیپارٹمنٹ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ اس سلسلے میں تحقیقات شروع کی جائیں یا نہیں۔ مشرقی یورپ کے ممالک رومانیہ اور پولینڈ ، جن کی طرف انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اشارہ کیا تھا ، پہلے ہی ان الزامات کو رد کرچکے ہیں۔ | اسی بارے میں ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس ’سی آئی اے جیلوں کی چھان بین ہوگی‘ 03 November, 2005 | آس پاس سی آئی اے کی دنیا بھر میں جیلیں03 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||