’سی آئی اے جیلوں کی چھان بین ہوگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی چھان بین کرے گا جن کے مطابق امریکی سی آئی اے نے یورپی یونین کے کئی ممالک میں غیر قانونی جیل قائم کر رکھی ہیں۔ یورپی یونین کے ترجمان فریسو روسکم ایبنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین اپنی ممبر ممالک سے ان جیلوں کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گا۔ یورپی یونین کے ترجمان نے واضح کیا کہ ابھی کوئی باقاعدہ انکوئری شروع نہیں کی گئی ہے۔ ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ اس کو یورپی یونین کی طرف سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے اور اگر ایسی درخواست کی گئی تو امریکہ اس پر غور کرے گا۔ امریکی حکومت نے واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والی ایک رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے گوانتانوموبے کے علاوہ افغانستان، مشرقی یورپ کے ملکوں اور تھائی لینڈ سمیت دنیا کے آٹھ ملکوں میں خفیہ جیلیں جنہیں کالے مقام کے نام سے پکارا جاتا ہے، قائم کر رکھی ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں جہاں سی آئی اے نے جیلیں قائم کی گئی ہیں۔ بعض گروہوں نے پولینڈ ، رومانیہ پر شک کا اظہار کیا ہے لیکن دونوں ملکوں نے اس کی تردید کی ہے۔ امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اگر 2003 کے ہوائی پروازوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو اشارے رومانیہ اور پولینڈ کے ایک فوجی اڈے ی اڈے کی طرف جاتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اس نے مشرقی یورپ کے ملکوں کا نام امریکی حکومت کے ایک اعلی اہلکار کے کہنے پر شائع نہیں کیے ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اعلی حکومتی اہلکار نے اخبار سے درخواست کی تھی کہ مشرقی یورپ کے ملکوں کا نام ظاہر کرنے سے خفیہ آپریشنز کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’باخبر‘ ذریعہ نہ بتانے پر صحافی قید07 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||