’باخبر‘ ذریعہ نہ بتانے پر صحافی قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نیو یارک ٹائمز اخبار کی رپورٹر جوڈتھ ملر کو اس بنا پر جیل بھیج دیا گیا ہے کہ انہوں نے تفتیشی عدالت گرانڈ جیوری کو اس شخص کا نام بتانے سے انکار کردیا تھا جس نے سی آئی اے کی ایجنٹ کا نام ذرائع ابلاغ کو دیا تھا۔ ہو سکتا ہے انہیں چار مہینے تک جیل میں رہنا پڑے۔ جوڈتھ ملر کا کہنا ہے کہ وہ جیل نہیں جانا چاہتیں لیکن اخلاقی تقاضے کی وجہ سے مجبور ہیں کیونکہ اگر رپورٹر خبر کے ذریعہ کو پوشیدہ نہ رکھ سکیں تو پریس کی آزادی باقی نہیں رہ سکتی۔ امریکی قانون کے تحت سی آئی اے کے کسی ایجنٹ کا نام ظاہر کرنا جرم ہے۔ استغاثہ یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ بش انتظامیہ میں سے کس نے یہ بات اخبار کی رپورٹر کو بتائی تھی کہ ولاری جو امریکہ کے ایک سابق سفیر کی اہلیہ ہیں، سی آئی اے کی ایجنٹ ہیں۔ سابق سفیر جوزف ولسن نے کچھ عرصہ قبل صدر جارج بش کی طرف سے عراق پر حملہ کرنے کے لیے پیش کردہ شہادتوں پر تنقید کی تھی۔ تاہم بعد میں انہیں نے یہ الزام لگایا کہ ان کی اہلیہ کا نام بطور سی آئی اے ایجنٹ جان بوجھ کر پریس کو دیا گیا ہے۔ ملر کو بدھ کے روز یہ حکم دیا گیا کہ اکتوبر کے آخر تک جب تک اس مقدمے کی سماعت مکمل نہیں ہوتی، وہ جیل ہی میں رہیں۔ تاہم اگر وہ یہ بتا دیں کہ انہیں خبر کس ذریعے سے ملی تھی تو وہ جیل سے باہر آ سکتی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز اخبار کے ناشر نے کہا ہے کہ ملر نے جمہوریت کی بہتری کے لیے کام کیا ہے اور اپنے ذریعہ کے نام کو ظاہر نہ کرکے اپنے وعدے کا پاس کیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ کئی عشروں میں حکومت اور میڈیا کے درمیان چپقلش کے حوالے سے انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ استغاثے کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے لیے خصوص رعایت یعنی انہیں گھر میں نظر بند کر دینا دراصل انہیں ملک کی اتھارٹی کی بات ماننے سے انکار پر مائل کرتا ہے چہ جائے کہ وہ بات کو تسلیم کریں۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں ایسا قانون ہے جس کے تحت رپورٹروں اپنے ذرائع خفیہ رکھنے پر قانون کی زد میں نہیں آتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||