صدر بش کی دوستی کا امتحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک اخبار نویس کی طرف سے اپنے ذرائع کا نام ظاہر نہ کرنے پر قید کی سزا سنائے جانے والا کیس میں صدر بش کے ایک قریبی دوست
اور معاون کے ملوث ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی سکینڈل کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک اعلی حکومتی اہلکار اس بات کی تفتیش کررہے ہیں کہ سابق سفارت کار جوزف ولسن کی طرف سے وائٹ ہاؤس پر الزامات عائد کرنے کے بعد کس سرکاری اہلکار نے ان کی بیوی کا نام ظاہر کیا جو امریکی خفیہ ادارے کی ایجنٹ ہیں۔ یہ سارا معاملہ گزشتہ دو سال سے چل رہا ہے اور اب اس میں صدر بش کے قریبی معاون کارل روؤ کا نام شامل ہونے سے ایک بڑا سیاسی اسکینڈل بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں کارل روؤ وائٹ ہاوس کے سب زیادہ اثرورسوخ رکھنے والے مشیر ہیں اور گزشتہ الیکشن میں صدر بش کی انتخابی فتح کے ایک اہم معمار ہیں۔ ٹائمز میگزین کے ایک نامہ نگار نے کہا ہے کہ روؤ نے سب سے پہلے سی آئی اے کی خفیہ اہلکار ویلارین پام کا نام ظاہر کیا تھا جس سے بلواسط طور پر یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ سن دوہزار تین کے انتخابات میں ایک سیاسی مخالف کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کی گئی ہے۔ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو روؤ کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے اور اس طرح صدر بش کی اپنے دوستوں سے روائتی وفاداری کا بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔ لیکن اس پیچیدہ کہانی میں اب بہت سے اور کردار بھی شامل ہوتے جارہے ہیں۔ اس کشمکش میں اب امریکی ذرائع ابلاغ کے بہت سے ستون بھی ملوث ہو گئے ہیں اور اخبارات میں خفیہ ذرائع کے حوالے سے خبروں کی اشاعت کے بارے میں بھی نئے سوال پیدا ہو چکے ہیں۔ یہ سکینڈل ایک ایسے مرحلہ پر سامنے آیا ہے جب صدر بش کی مقبولیت کا گراف نیچے جا رہا ہے اور بش انتظامیہ کے عراق کی مہم جوئی کے بارے میں نئے سوالات جنم لیے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||