BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 December, 2005, 19:35 GMT 00:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشتبہ دہشت گرد کی اپیل
ابو قتادہ
ابو قتادہ خود تین سال سے برطانیہ کی قید میں ہیں
برطانوی جیل میں قید ایک مشتبہ دہشت گرد نے ویڈیو کے ذریعے برطانوی شہری نورمن کمبر کی رہائی کی اپیل کی ہے جنہیں پچھلے ماہ عراق میں تین ساتھیوں کے ہمراہ اغوا کر لیا گیا تھا۔

ابو قتادہ کو سنہ 2002 سے حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اغواکاروں سے درخواست کی کہ مغوی کو مذہب اسلام میں رحم کے اصول کے تحت چھوڑ دیا جائے۔

مغوی برطانوی شہری کی بیوی نے بھی شمالی لندن سے اپنے 74 سالہ شوہر کی رہائی کے لیے درخواست کی ہے۔

اغوا کرنے والوں نے مغوی کو جمعرات کے روز قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ابو قتادہ نے از خود اغوا کاروں سے اپیل کرنے کی پیشکش کی تھی جن کا تعلق ’سچ کی تلوار‘ نامی تنظیم سے ہے۔

نورمن کی بیوی پیٹ
ہم تمام مذاہب کے لوگوں سمیت ان کی رہائی کے لیے دعا گو ہیں

مشتبہ دہشت گرد نے اس ویڈیو میں کہا کہ ’میں آپ کا بھائی ابو قتادہ عمر بن محمد ابو عمر ہوں۔ میں اپنے سچ کی تلوار تنظیم کے بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مغویوں کو رحم کے مذہبی اصول کے تحت چھوڑ دیں، اگر ان کے خلاف کوئی مذہبی فریضہ نہ ہو تو‘۔

خیال ہے کہ پہلی دفعہ کسی زیر قید شخص نے اس قسم کی اپیل کی ہے۔

جرمنی کے سابق چانسلر شروئڈر نے بھی ان کی رہائی کے لیے اپیل کی ہے۔

مغوی نورمن کمبر ایک بین الاقوامی امن تنظیم ’کرسچن پیس میکر ٹیم‘ کے ساتھ عراق گئے تھے۔

نورمن کمبر کی الجزیرہ ٹی وی پر دکھائی گئی تصویر
نومن کمبر کو جمعرات کے روز قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے

ان کے ساتھ اغوا ہونے والوں میں کینیڈا کے شہری 41 سالہ جیمز لونی اور 32 سالہ حرمیت سنگھ اور امریکی شہری 54 سالہ ٹام فاکس شامل ہیں۔ یہ سب لوگ بھی اب تک قید میں ہی ہیں۔

اغوا کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جمعرات تک عراقی قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو مغویوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مغویان پر بیرونی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

نورمن کے خاندان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک نرم دل شخص ہیں اور ان کا عراق جانے کا مقصد عراقی لوگوں کے غم میں شریک ہونا تھا۔ اس بیان میں مغوی کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر سب کا شکریہ ادا کیا گیا۔

منگل کے روز ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی جس میں نورمن نے عراق سے برطانوی فوجوں کے انخلاء کی درخواست کی۔

انہوں نہ کہا ’ میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے کہتا ہوں کہ وہ عراق کے لوگوں کو اپنا فیصلہ خود کرنے دیں‘۔ اس ویڈیو میں سب مغویوں کو بندھے ہوئے دکھایا گیا۔

بی بی سی کے عالمی امور کے مدیر جان سمپسن کا کہنا ہے کہ نورمن نے یہ بیان اپنی مرضی سے دیا ہے کیونکہ وہ عراق میں امریکی اور برطانوی فوجوں کی موجودگی کے سخت خلاف تھے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اغوا کاروں نے چار لوگوں کو اغوا کیا ہے جن میں سے ایک ان کا بہت بڑا حمایتی ہے۔

نورمن کی تنظیم نے اس ہفتہ کے آغاز میں ایک بیان میں امریکہ اور برطانیہ پر سخت تنقید کے ساتھ ساتھ مغوی کی رہائی کے لیے اپیل کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد