’امریکہ حکم دینے سے پرہیز کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کے وزیر اعظم پال مارٹن نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ انہیں حکم دینے سے پرہیز کرے کیونکہ ان کے عوام ان سے اپنے ملک کے لیے کھڑے ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ وہ امریکی سفیر ڈیوڈ ولکنز کے بیان پر تبصرہ کر ہے تھے جس میں امریکی سفیر نے کینیڈا کے سیاستدانوں پر زور دیا تھا کہ وہ انتخابات کی مہم کے سلسلے میں امریکہ کے بارے میں اپنے بیانات کے معاملے میں محتاط رہیں۔ پال مارٹن اپنی کمزور حکومت کے عدم اعتماد کے ذریعے ختم ہو جانے کے بعد جنوری میں دوبارہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں 2003 کے بعد سے کشیدگی چلی آ رہی ہے جس کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب کینیڈا نے عراق جنگ کے لیے امریکہ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے امریکہ پر حال ہی میں مانٹریال میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں آلودگی کے خلاف کوششوں میں تعاون نہ کرنے پر تنقید کی۔ امریکہ کے سفیر نے کینیڈا کے سیاستدانوں کو اپنے بیانات میں پر سکون رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کینیڈا کو کبھی بھی اپنی ترقی کے لیے امریکہ کو نقصان پہنچانے کی ضرورت نہ تھی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ہم سب کو امید کرنی چاہیے کہ اس کا ہمارے دور رس تعلقات پر برا اثر نہ پڑے۔ اس بات کا آپ لوگوں کو مستقبل قریب میں سیاسی فائدے کے لیے بات کرتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے‘۔ اگرچہ امریکی سفیر نے مارٹن کا نام نہیں لیا تاہم انہوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ وہ امریکہ پر آلودگی کے مسئلہ پر ہونے والی تنقید سے نالاں ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ ایسی بات سیاسی فائدے کے لیے نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے ملک کے مفاد میں ہر بات کہنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے کسی کے حکم کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عوام یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے لیے کھڑا ہو جاؤں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ آنے والے کل میں اور ہمیشہ کے لیے کینیڈا اپنی بات آزادانہ طور پر کہے اور آپ لوگوں کو اپنے وزیر اعظم سے اس سے کم کی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘۔ قدامت پسند رہنما سٹیفن ہارپر نے امریکی سفیر کی تنقید کو ’نامناسب‘ قرار دیا اور کہا کہ کسی سفیر کو کسی ملک کی داخلی سیاست میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ کینیڈا میں نئی پارلیمنٹ کے لیے تیئس جنوری کو انتخابات ہوں گے۔ پال مارٹن کی ترقی پسند حکومت صرف سترہ ماہ بر سر اقتدار رہی۔ | اسی بارے میں ’سی آئی اے پر الزامات درست‘13 December, 2005 | آس پاس ریڈکراس کی رسائی محدود: امریکہ09 December, 2005 | آس پاس امریکہ مزید بات چیت پر تیار10 December, 2005 | آس پاس ماحولیاتی کانفرنس لفاظی میں دب گئی03 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||