BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 December, 2005, 04:05 GMT 09:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ مزید بات چیت پر تیار
مندوبین کا خیال ہے کہ امریکہ کے شامل ہونے سے ہی ماحولیاتی معاہدہ بااثر ہوسکتا ہے
کینیڈا کے شہر مانٹریال میں ماحولیاتی تبدیلی پر ہونے والی کانفرنس کے دوران اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ امریکہ دیگر ممالک سے ماحولیاتی آلودگی کے معاملے پر مز ید بات چیت کرے گا۔

امریکی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک سمجھوتے پر پہنچنے کے قریب ہیں۔ امریکی مذاکرات کار اس سے قبل بات چیت سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

کانفرنس کے بقیہ مندوبین فضا میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سمجھوتے پر اتفاق کرچکے ہیں لیکن امریکہ نے اب تک اس سمجھوتے میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔

کانفرنس کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک غیررسمی سمجھوتے پر جمعہ کی شب اتفاق ہوگیا تھا تاکہ فضا میں آلودگی پھیلانے والے گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کرنے کی جانب پیش قدمی کی جاسکے۔

اس سے متعلق کیوٹو معاہدے پر بش انتظامیہ نے اتفاق کرنے سے سن دوہزار ایک میں انکار کردیا تھا اور مانٹریال میں ہونے والی کانفرنس میں بھی امریکہ تنہا پڑگیا ہے۔ امریکہ نے کینیڈا کے وزیراعظم پال مارٹِن کی اس بات پر بھی اپنی ناراضگی جتائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ عالمی ضمیر کی آواز سنے۔

سابق امریکی صدر بِل کلنٹن نے کانفرنس کے آخری دن یعنی جمعہ کو مندوبین سے خطاب کے دوران کہا کہ بش انتظامیہ کا یہ کہنا ماحولیاتی معاہدے پر دستخط کرنے سے امریکی معیشت کو نقصان ہوگا، غلط ہے۔

کلنٹن نے کہا کہ امریکہ بڑے آرام سے کیوٹو معاہدے کے تحت طے کیے جانے والے اہداف کو حاصل کرسکتا ہے اور اس سے امریکی معیشت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگی۔ کلنٹن نے اپنی صدارت کے دوران کیوٹو معاہدے پر دستخط کرنے کی کوشش کی تھی لیکن امریکی کانگریس نے اسے نامنظور کردیا تھا۔

سابق صدر کلِنٹن کے اس بیان سے کانفرنس میں موجود امریکی مندوبین بھی تنہا پڑگئے۔ صدر جارج بش کی انتظامیہ یہ کہتی رہی ہے کہ فضا میں آلودگی گرین ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کی جانی چاہئے اور یہ کہ جب تک ہندوستان اور چین اس معاہدے پر دستخط نہیں کرتے اس کا اثر نہیں ہوگا۔

مندوبین مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی شب دیر گئے تک ایک سمجھوتے پر اتفاق کے لیے کوشش کرتے رہے۔ درجۂ حرارت میں غیرفطری تبدیلی کی وجہ سے دنیا کے ممالک ایک ماحولیاتی معاہدے پر امریکہ اور چین جیسے بڑے ممالک کا سمجھوتہ چاہتے ہیں۔

ماحول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آلودگی پھیلانے والے دیگر گیسوں کے اخراج سے ماحولیاتی میں غیرفطری تبدیلیاں ہورہی ہیں جو کرۂ ارض کو انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ بناسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور دیگر بڑی صنعتی معیشتیں فضا میں آلودگی کے لیے زیادہ ذمہ دار ہیں۔

انیس سو ستانوے میں جو کیوٹو معاہدہ طےپایا تھا اس کے تحت اس پر دستخط کرنے والے ممالک پر لازمی ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو سن دو ہزار آٹھ اور بارہ کے درمیان کم کرکے پانچ فیصد تک لائیں جو کہ انیس سو نوے میں اس کی سطح تھی۔ کیوٹو معاہدے پر ایک سو ستاون ممالک نے اتفاق کیے ہیں۔

ان تمام ممالک کو ابھی اس معاہدے پر عمل کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ دستخط کرنا ضروری ہے۔ مانٹریال میں ہونے والی کانفرنس میں یہ ممالک کیوٹو معاہدے کے اہداف کے حصول کے لیے حتمی اقدامات پر فیصلہ کریں گے۔ کیوٹو معاہدے پر سمجھوتہ کرنے والے ممالک کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ سن دو ہزار بارہ کے بعد اس بارے میں وہ کیا کریں گے۔ جاپان نے ہندوستان اور چین سے کہا ہے کہ وہ کیوٹو معاہدے پر اتفاق کریں۔

اسی بارے میں
ماحول کی تبدیلی پر بحث جاری
09 December, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد