ماحولیات ’نئے مذاکرات‘ کا وعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جی ایٹ کے رہنماؤں نے ماحولیات میں تبدیلی پر’ نئے مزاکرات ‘ کا وعدہ کیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی جی ایٹ سربراہ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ اس پورے کرہ ارض کے لئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ کانفرنس میں شامل تمام ممالک نے وعدہ کیا ہے کہ ان گیسوں کے اخراج کو روکنے یا ان کے حل کے لئے جلدی کاروائی کی جائے گی جو عالمی حدت میں اضافہ کے لئے ذمہ دار ہیں لیکن ان ممالک نے اس سلسلے میں نہ تو کوئی وقت مقرر کیا ہے اور نہ ہی اہداف کی نشاندہی کی گئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ جی8 ممالک مزید مزاکرات کے لئے نومبر میں ملاقات کریں گے۔ ماحولیات کے حق میں مہم چلانے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ مسٹر بلئیر نے ماحولیات میں تبدیلی کے موضوع کو ترجیح دی لیکن وہ کانفرنس کے نتائج سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ اعلامیہ میں مخصوص اقدامات واضح نہیں کئے گئے ’کیونکہ امریکی انتظامیہ اپنا موقف تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے‘۔ برطانوی اکیڈمی برائے سائنس کے صدر لارڈ مے کا خیال ہے ماحولیات میں تبدیلی کے موضوع پر صرف بات کرنا ہی کافی ہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس میں تمام رہنماؤں کی جانب سے اس مسُلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے میں ناکامی پر مایوس کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم وزیر اعظم کو اس سلسلے میں مبارکباد دیتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اس سلسلے میں مزید ٹھوس اقدامات کریں گے۔ مسٹر بلئیر نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ کیوٹو پر اختلافات کو تو دور نہیں کیا جا سکا لیکن سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم اتفاق رائے کی سمت بڑھ رہےہیں۔ اگر امریکہ کو اس سمجھوتے پر راضی نہیں کیا جا سکا تو پھر بھارت اور چین جیسے ابھرتے ہوئے بڑے اقتصادی ممالک کو بھی اس میں شامل نہیں کیا جاسکے گا اگر امریکہ ان مزاکرات کا حصہ نہیں بن سکا اور ہم بھارت اور چین کو بھی اس میں شامل نہ کر سکےتو اس طرح اس مسُلے کو حل کرنے میں کامیابی نہیں مل پائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||