BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 December, 2004, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مستقبل کا دھندلا افق
 فضائی آلودگی
ہر برس تیس لاکھ افراد فضائی آلودگی کی بنا پر موت کا شکار ہو جاتے ہیں
آلودگی دنیا کو درپیش سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ دنیا سے آلودگی کے خاتمے کے لیے ’پیسہ‘ چاہیے اور یہ زیادہ سے زیادہ ’پیسہ‘ حاصل کرنے کی ہوس ہی ایک لحاظ سےاس تمام آلودگی کو جنم دیتی ہے۔

ایک ایسا طرزِ زندگی اپنانا جو کہ کرہ ارض کے لیے نقصان دہ نہ ہو آسان تو نہیں لیکن ایسا طرزِ زندگی اب ایک بنیادی ضرورت بن گیا ہے، کیونکہ آلودگی اب زندگی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

ہوا: عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے ہر سال دنیا بھر میں تیس لاکھ افراد گاڑیوں اور صنعتی اداروں کی جانب سے پھیلائی جانے والی فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ قریباً سولہ لاکھ افراد ٹھوس ایندھن کے استعمال کی بنا پر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ ان افراد میں سے زیادہ کا تعلق غریب ممالک سے ہے۔

پانی : ترقی پذیر ممالک میں ہر آٹھویں سیکنڈ ایک بچہ آلودہ پانی کے استعمال سے مر جاتا ہے۔ان ممالک میں اسی فیصد بیماریاں اور اموات آلودہ پانی کی بنا پر ہوتی ہیں۔ ہر سال ا کیس لاکھ افراد آلودہ پانی کی وجہ سے اسہال کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مٹی : صنعتی ممالک میں کارخانوں اور بجلی گھروں کی جانب سے ترک شدہ آلودہ زمین ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس زمین میں بھاری دھاتوں کی ایک بڑی مقدار موجود ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کیڑے مار ادویات کی تلفی کے لیے زمین کا استعمال اسے آلودہ کر رہا ہے۔نائٹریٹ کھادوں کا استعمال اور مویشیوں کا فضلہ زمین کو آلودہ کرنے کا بنیادی سبب ہے۔ اور یہ فضلہ جب دریاؤں تک پہنچتا ہے تو آبی حیات کے لیے زہر کا کام کرتا ہے اور اس آلودگی کے نتیجے میں خلیج مکسیکو جیسے ڈیڈ زون تشکیل پاتے ہیں۔

 کنکاریہ جھیل
کیمیائی آلودگی بھارت کے کنکاریہ جھیل کی لاکھوں مچھلیوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے

کیمیائی مادے : کیمیائی مادے بھی آلودگی کا ایک مستقل ذریعہ ہیں۔لوگ ابھی تک سانحہ بھوپال کو بھلا نہیں پائے ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں ستر ہزار کے قریب کیمیائی مادے موجود ہیں جبکہ ان میں ہر سال قریباً پندرہ سو نئے مادوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سے تیس ہزار کے قریب مادوں پر عام لوگوں کے لیے مضر نہ ہونے کے لحاظ سے کوئی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔

آلودگی کا مسئلہ بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ایک تحقیق کے مطابق سات سے بیس فیصد کینسر کے مریض آلودہ ہوا اور گھروں اور دفاتر میں موجود آلودگی کی بنا پر اس موذی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔

عام استعمال کی جانے والی کیڑے مار دوا ’ ڈی ڈی ٹی‘ ایک طرف تو جنگلی حیات اور انسانی دماغ کے لیے خطرناک ہے تو دوسری طرف وہ ملیریا کے علاج میں مدد بھی کرتی ہے اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ کیا اس کی افادیت اس کے مضر اثرات سے زیادہ ہے یا نہیں؟

آلودگی سرحدوں کی پابند نہیں ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ نے ایک اجلاس میں فضائی آلودگی کو بین الاقوامی سرحدوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی مگر یہ کوشش ناکام رہی۔آلودگی کے مسئلے کے بین الاقوامی ہونے کا ثبوت ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ دنیا کے ممالک ایک ماحولیاتی سسٹم کے تحت ہیں اور ایک ملک کی جانب سے اٹھایا جانے والا قدم دوسرے ممالک کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

آلودگی کے خاتمے سے متعلق ایک ایسا اصول لاگو کرنے کی ضرورت ہے جس میں آلودگی پھیلانے والا اس کی صفائی کا ذمہ دار ہو۔

News image
پلاسٹک مادے سمندری مخلوقات کے لیے بڑا خطرہ ہیں

ہماری آباء اس خیال پر یقین رکھتے تھے کہ فضلہ کی تلفی اس سے چھٹکارا پانے کا بہترین طریقہ ہے چنانچہ انہوں نے ایٹمی فضلہ اس امید کے ساتھ سمندروں میں بہا دیا کہ وہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو جائے گا۔

ہماری موجودہ نسل یہ جانتی ہے کہ یہ ایک خطرناک کام ہے کیونکہ اس سے کوئی اور نہیں ہماری آنے والی نسلیں متاثر ہوں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد