پلاسٹک، آلودگیوں کا بڑا سبب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جریدہ ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک اور ایسی ہی دوسری مصنوعات سمندروں میں اور ساحلوں پر آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دور دراز واقع بظاہر صاف ستھرے ساحلوں پر بھی پلاسٹک کے ذرات پائے گئے ہیں۔ یہ سمندری ریت اور پانی میں پلاسٹک کے ذرات کی آلائش کا پہلا باقاعدہ جائزہ ہے۔ تاہم یہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس آلودگی کے دیرپا اثرات کیا ہوں گے۔ یونیورسیٹی آف پلائماؤتھ کے سائنسدانوں کی ایک جماعت نے برطانیہ کے تقریباً سترہ ساحلوں اور پانی کی گزرگاہوں کے نمونے جمع کیے ہیں جن میں منصوعی اجزاء کی آمیزش پائی گئی۔ یہ منصوعی اجزاء زیادہ تر پلاسٹک کے ذرات پر مشتمل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے ریت میں پائے جانے والے کیڑوں کا معائنہ کیا تو ان کے جسموں میں یہ مصنوعی ذرات پائے گئے۔ تحقیق کرنے والی جماعت کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ ٹامسن کہتے ہیں کہ چونکہ پلاسٹک قدرتی طور تحلیل نہیں ہوتا اس لئے خدشہ ہے کہ یہ آلودگی بہت عرصے تک موجود رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم اس نئی آلودگی کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ بعض کیمیائی اجزاء ان ذرات سے چمٹ کر خوراک کی زنجیر میں شامل ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||