ٹریفک جام سے انسان مر سکتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹریفک جام ہونے سے صرف آپ کے موڈ ہی پر برا اثر نہیں پڑتا بلکہ ایک نئی تحقیق کے بعد پتہ چلا ہے کہ اس سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ گاڑی کے نیچے آنے سے نہیں بلکہ دل بند ہوجانے سے۔ جرمنی میں ہونے والی اس تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جو ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں ان کو ایک گھنٹے کے اندر اندر دل کا دورہ پڑنے کا امکان عام انسانوں سے تین گنا زیادہ ہے۔ سائسن دانوں نے جنہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں دل کے دورے والے واقعات کا مطالعہ کیا ہے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر بارہ میں سے ایک موت ٹریفک کے سبب ہوئی۔ ٹریفک جام کے وجہ سے خاص طور سے خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ساٹھ سال کی عمر سے زیادہ کے افراد بھی ٹریفک جام سے متاثر ہوتے ہیں۔ تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ ابھی یہ طے کیا جاتا ہے کہ ٹریفک جام کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا سبب آلودگی سے سابقہ پڑنا ہے یا پھر ذہنی دباؤ۔ اس تحقیق کے دوران انیس سو ننانوے سے دو ہزار ایک کے عرصے میں ان چھ سو اکیانوے افراد کے انٹرویو کیے گئے جنہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ مریضوں سے کہا گیا تھا کہ وہ دورہ پڑنے سے چار دن پہلے کے مشاغل اور سرگرمیوں کا بالخصوص ذکر کریں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ انسان کس طرح کی ٹرانسپورٹ میں بیٹھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||