آلودگی: جڑواں پیدائش کا سبب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جڑواں بچوں کی پیدائش میں دیگر وجوہات کے علاوہ ماحول کی آلودگی بھی ایک سبب ہے ۔ سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آلودہ ماحول میں رہنے والی عورتوں کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح نسبًتا زیادہ ہوتی ہے۔ جرمن سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق آلودہ ماحول میں رہنے والی ماؤں کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح، آلودگی سے پاک علاقوں کے مقابلے میں دگنی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں کیمیاوئی اخراج کی شرح زیادہ ہو وہاں جڑواں بچوں کی پیدائش اور بھی زیادہ ہے۔ سائنسدانوں نے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مزید تحقیق کا مشورہ دیا ہے۔ جرمنی کی ہیمبرگ یونیورسٹی کے سائسندانوں کی ایک ٹیم نے جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح کا موازنہ تین علاقوں کے ساتھ کیا جہاں ماحول میں آلودگی کی شرح زیادہ ہے۔ ان علاقوں میں آلودگی کی شرح زیادہ انسنیریٹر( جس میں ہسپتال وغیرہ کا کوڑا کرکٹ جلایا جاتا ہے) کے ہونے کی وجہ سے ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق صنعتی علاقوں کے پاس رہنے والی ماؤں کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش دوسرے علاقوں سے دوگنی ہے۔ جرمنی کے ایک علاقے ہیز میں، جہاں آلودگی کی شرح دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے، ایک سو میں سے پانچ ماؤں کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں آلودگی سے پاک علاقوں میں یہ شرح صرف ایک فیصد ہے۔ ڈاکٹروں نے تحقیق کرتے ہوئے اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ کہیں ان علاقوں میں افزائش نسل کی ادوایات کا استعمال زیادہ نہ ہو۔ برطانیہ میں پچھلے دس سالوں میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش میں بیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔سن دو ہزار دو میں برطانیہ میں ایک ہزار ماؤں سے پندرہ کےہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔ انیس سو بانوے میں ایک ہزار ماؤں سے بارہ کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔ سکاٹ لینڈ اور بیلجیم میں جرمنی میں ہونے والی تحقیق کے نتائج سے ہم آہنگی پائی گئ لیکن سویڈن میں یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ماحول میں آلودگی بھی جڑواں بچوں کی پیدائش کی ایک وجہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||