انٹارکٹ میں حدت، برف پگھل گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تحقیق کاروں کے مطابق سیٹیلائٹ سے حاصل کی جانے والی نئی معلومات سے پتہ چلا ہے جزیرہ نما انٹارکٹک میں ماحولیاتی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ دو سال قبل لارسن بی نامی گلیشیئر کے ٹوٹنے سے قریبی سمندر ویڈل میں برفانی تودے تیزی سے بہنے شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جزیرہ نما انٹارکٹک میں زمین کے درجہ حرارت میں سب سے تیز تر تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔ سائنسدانوں نے سیٹیلائٹ کی مدد سے لارسن بی کے ٹوٹنے سے پہلے اور بعد میں گلیشیئرز کے پانی میں تیرنے کی رفتار سے متعلق مواد اکٹھا کیا ہے۔ تجزیے سے پتہ چلا کہ لارسن بی سے ٹوٹنے والے چار گلیشیئرز کی رفتار میں دو سے چھ گنا اضافہ ہوا۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ مزید حدت سے مزید گلیشیئرز ٹوٹیں گے اور سمندر میں گر جائیں گے جس سے سمندر کے پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس برف سے سمندروں کے پانی کی سطح کتنی اونچی ہوئی ہے۔ زمین پر جزیرہ نما انٹارکٹکا وہ واحد علاقہ ہے جہاں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پچاس سال میں وہاں درجہ حرارت میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||