BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 September, 2004, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹارکٹ میں حدت، برف پگھل گئی
جزیرہ نما انٹارکٹک
گزشتہ پچاس سال میں درجہ حرارت میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے
امریکی تحقیق کاروں کے مطابق سیٹیلائٹ سے حاصل کی جانے والی نئی معلومات سے پتہ چلا ہے جزیرہ نما انٹارکٹک میں ماحولیاتی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔

دو سال قبل لارسن بی نامی گلیشیئر کے ٹوٹنے سے قریبی سمندر ویڈل میں برفانی تودے تیزی سے بہنے شروع ہو گئے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں جزیرہ نما انٹارکٹک میں زمین کے درجہ حرارت میں سب سے تیز تر تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔

سائنسدانوں نے سیٹیلائٹ کی مدد سے لارسن بی کے ٹوٹنے سے پہلے اور بعد میں گلیشیئرز کے پانی میں تیرنے کی رفتار سے متعلق مواد اکٹھا کیا ہے۔

تجزیے سے پتہ چلا کہ لارسن بی سے ٹوٹنے والے چار گلیشیئرز کی رفتار میں دو سے چھ گنا اضافہ ہوا۔

اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ مزید حدت سے مزید گلیشیئرز ٹوٹیں گے اور سمندر میں گر جائیں گے جس سے سمندر کے پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس برف سے سمندروں کے پانی کی سطح کتنی اونچی ہوئی ہے۔

زمین پر جزیرہ نما انٹارکٹکا وہ واحد علاقہ ہے جہاں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پچاس سال میں وہاں درجہ حرارت میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد