2004: سمندری طوفانوں کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحولیات کے شعبے میں سال دو ہزار چار انتہائی ہنگامہ خیز رہا۔ سمندری طوفانوں نے امریکہ، کیوبا جاپان اور فلپائن سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں تباہی مچائی۔ اس قدرتی آفات میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کو بے گھر ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان سمندری طوفانوں کے نام بھلے ہی الگ تھے لیکن ان کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں میں تباہ کن تھے۔ امریکہ میں لوگوں نے فرانسس، آئیون اور ایزابیل نامی طوفانوں سے برباد ہوئے تو جاپان میں اسے ٹوکائے یا میئےری یا پھر سونگڈا کے نام سے یاد کیا گیا۔ جنوبی کوریا میں حکام نے ملک میں اس سال آنے والے طوفان کو صدی کا سب سے خوفناک طوفان قرار دیا جس میں حکام کے مطابق کم از کم ایک سو پندرہ افراد ہلاک ہوئے ۔ ماہرین نے اچانک سمندری طوفانوں میں آنے والی اس شدت کی وجہ گلوبل وارمنگ یا عالمی درجہ حرارت میں میں اضافہ بتایا اور سائنسدانوں نے نئے خطرات سے متنبہ کیا۔ شاید انہیں آفات کے سبب ان ممالک نے بھی ماحولیات کے تحفظ کی جانب نئے اقدام کا اعلان کیا جنہوں نے اس جانب ماضی میں انتہائی سرد مہری کا مظاہرہ کیا تھا۔ روس کی ہی مثال لیں۔ انیس سو ستانوے میں جاپان کے شہر کیوٹو میں ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی غرض سے بین الاقوامی معاہدے پر امریکہ، روس اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے یہ کہہ کر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے لئے ان کی صنعتیں ذمہ دار نہیں ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پوری دنیا میں ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے پچپن فی صد حصے کے لئیے ترقی یافتہ ممالک ذمہ دار تھے۔
تاہم طویل انتظار کے بعد روس نے گلوبل وارمنگ پر قابو پانےکے سلسلے میں طے ہونے والے کیوٹو معاہدے کی توثیق کرنے کی حامی بھر دی۔ نومبر میں اس نے اقوام متحدہ کو اس بابت اپنی رضا مندی دے دی جس کے بعد اس معاہدے کی مخالفت میں اب امریکہ تنہا ہو گیا ہے اور اقوام متحدہ میں سولہ فروری سے یہ ایک بین الاقوامی قانون بن جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو ہزار تین میں کیوٹو معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے فیصلے پر روس کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہاں برطانیہ میں حکومت نے گلوبل وارمنگ روکنے کے سلسلے میں امریکہ پر نہ صرف زور ڈالنے کی بات کہی بلکہ اس بابت نئے قانون کے نفاذ کا بھی اعلان کیا۔ سائنسدانوں کے مطابق پاکستان کے بعض حصوں میں ہونے والی خشک سالی اور ہندوستان کی شمال مشرقی اور مشرقی ریاستوں میں سیلاب سے ہونے والی وسیع بربادی کی وجہ بھی گلوبل وارمنگ تھی۔ اپنے پہلے چار سال کے دور حکومت میں ماحول کا تحفظ بش انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا اور اس سال جب جارج بش نے دوبارہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو ماحولیات کے لئے سرگرم تنظیموں کو مایوسی ہوئی۔ دسمبر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ نے ایک مرتبہ پھر اپنے موقف کو دہرایا اور کیوٹو معاہدے کی توثیق نہ کرنے کا اعلان کیا۔ سائنسدانوں کے مطابق مستقبل قریب میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہمیں جن خطرات درپیش ہوں گے ان کی فہرست کچھ یوں ہے۔ خوراک: دنیا میں اس وقت ہر چھ میں سے ایک شخص فاقہ کشی کا شکار ہے اور یہ صورت حال مستقبل میں مزید خراب ہوگی۔ پانی: دو ہزار پچیس تک دنیا کی دو تہائی آبادی کو پینے کے صاف پانی کے بحران کا سامنا ہو گا۔ توانائی: تیل کی پیداوار جلد ہی اپنے انتہا تک پہنچ جائے گی اور دو ہزار دس سے توانائی کی سپلائی میں کمی واقع ہونا شروع ہو جائے گی۔ صحت: نئے اعدا و شمار کے مطابق دنیا میں اس وقت پیدا ہونے والے ہر بچے کے جسم میں خطرناک کیمیائی اجزاء موجود ہوتے ہیں اور ہر چار میں سے ایک شخص کو آلودہ ہوا میں سانس لیتا ہے۔
۔ اسی سال برڈ فلو نے جنوب مشرقی ایشیا میں ایک الگ نوعیت کا قہر برپا کیا۔ اس کا آغاز ویسے تو مرغیوں ، شتر مرغ اور پرندوں کی اموات سے ہوا لیکن جلد ہی چین اور تھائی لینڈ میں اس وبا نے انسانی آبادی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پاکستان میں بھی برڈ فلو کی تصدیق کی گئی لیکن یہاں اس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||