دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحولیاتی حالات پر تحقیق اور اس سے متعلق پیشین گوئی کے ایک پراجیکٹ میں اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں مجموعی طور پر گیارہ سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد وشمار پہلے وضع کیے گئے اعداوشمار سے قریباً دو گنا زیادہ ہیں۔ اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کوئی محفوظ حد موجود نہیں ہے۔ اس تحقیق میں دنیا بھر کے کمپیوٹروں سے استفادہ کیا گیا اور اس تحقیق کو ’نیچر‘ نامی رسالے میں شائع کیا جائے گا۔ کلائمیٹ پریڈکشن ڈاٹ نیٹ نامی اس پراجیکٹ کی روحِ رواں آکسفورڈ یونیورسٹی ہے اور اس منصوبے میں کسی ایک سپر کمپیوٹر کے ذریعے ماحولیاتی ماڈل بنانے کے بجائے دنیا بھر سے موسمیاتی تحقیق سے متعلق افراد کے کمپیوٹرو ں کو استعمال کرتے ہوئے ایک سافٹ وئیر کے ذریعے تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق میں 150 ممالک کے 95000 افراد شامل ہوئے جنہوں نے مستقبل کے ماحول کے بارے میں 60000 کے قریب پیشین گوئیاں کیں۔ اس منصوبے میں کی جانے والی تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق دنیا کے درجہ حرارت میں دو ڈگری سے گیارہ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کے وقت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہمارے ماحول میں کاربن ڈائی آ کسائیڈ کی شرح کتنی تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس منصوبے کے سربراہ اور چیف سائنسدان ڈیوڈ سٹین فورتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ان نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||