نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ، آسٹریلیا اور ایشیا کے چار ممالک نے عالمی حدت کو کم کرنے کے طریقہ کار کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ایشیا کے ممالک میں جاپان، چین، بھارت اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ جاپان کیوٹو معاہدے کا اہم حامی تھا۔ انیس سو ستانوے کے کیوٹو پروٹوکول کے تحت عالمی حدت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ممبر ممالک کو ماحول خراب کرنے والی گرین ہاؤس گیسز پر کنٹرول پانا لازمی تھا۔ یہ وہ گیسز ہیں جن کو موسمی تبدیلی کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس نئے معاہدے میں کیوٹو پروٹوکول والی کوئی پابندیاں نہیں ہیں۔ نا اس میں کوئی اہداف واضح کیے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی نظام الاوقات۔ اس کے علاوہ اس معاہدے میں شامل دو ممالک چین اور بھارت دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والے ممالک میں سے ہیں۔ ان سارے مسائل کے باوجود امریکہ کے نائب وزیر خارجہ روبرٹ زیلک نے اس معاہدے کو کیوٹو کے مطابق قرار دیا ہے۔ لیکن ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نئے معاہدے کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں اور ان مقاصد میں کیوٹو کے عمل سے توجہ ہٹانا اہم ہے۔ کیوٹو کے عمل کو آگے بڑھانے پر مذاکرات نومبر میں ہونے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||