BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 July, 2005, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط
ماحول
یہ ممالک چاہتے ہیں کہ ماحولیاتی پابندیاس ان کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ ّالیں
امریکہ، آسٹریلیا اور ایشیا کے چار ممالک نے عالمی حدت کو کم کرنے کے طریقہ کار کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ایشیا کے ممالک میں جاپان، چین، بھارت اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

جاپان کیوٹو معاہدے کا اہم حامی تھا۔ انیس سو ستانوے کے کیوٹو پروٹوکول کے تحت عالمی حدت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ممبر ممالک کو ماحول خراب کرنے والی گرین ہاؤس گیسز پر کنٹرول پانا لازمی تھا۔ یہ وہ گیسز ہیں جن کو موسمی تبدیلی کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اس نئے معاہدے میں کیوٹو پروٹوکول والی کوئی پابندیاں نہیں ہیں۔ نا اس میں کوئی اہداف واضح کیے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی نظام الاوقات۔

اس کے علاوہ اس معاہدے میں شامل دو ممالک چین اور بھارت دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والے ممالک میں سے ہیں۔

ان سارے مسائل کے باوجود امریکہ کے نائب وزیر خارجہ روبرٹ زیلک نے اس معاہدے کو کیوٹو کے مطابق قرار دیا ہے۔ لیکن ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نئے معاہدے کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں اور ان مقاصد میں کیوٹو کے عمل سے توجہ ہٹانا اہم ہے۔

کیوٹو کے عمل کو آگے بڑھانے پر مذاکرات نومبر میں ہونے ہیں۔

66معاہدے سے قانون تک
کیوٹو معاہدہ کا اگلے برس سےاطلاق شروع
66کیوٹو پرٹوکول
کیٹو پرٹوکول سولہ فروری سے نافذ ہو رہا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد