’سی آئی اے پر الزامات درست‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی کونسل کے ایک تفتیش کار کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے پر لگایا گیا الزام درست ہے کہ اس نے دہشت گردی کے ملزموں کو خفیہ طور پر دوسرے ملکوں میں منتقل کیا۔ اس بات کا اظہار یورپی کونسل کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے نمائندہ ڈک مارٹی نے اپنی تفتیش کے بعد ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔ ڈک مارٹی نے جو سوئٹزرلینڈ کے سینٹر بھی ہیں امریکہ پر تنقید کی کہ اس نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی حکومت اور ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کے تمام اقدامات قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جاتے ہیں۔ مارٹی کی رپورٹ کو یورپی کونسل کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے سرکاری طور پر جاری کیا۔ یہ کمیٹی یورپ کے حوالے سے انسانی حقوق کے معاملات کی نگران ہے۔ ڈک مارٹی نے کہا کہ ’اب تک ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں ان سے قیدیوں کی یورپی ممالک میں غیر قانونی منتقلی کے الزامات کو تقویت ملتی ہے جو کہ کسی عدالتی ضابطہ کے بغیر کی گئی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’چند ملکوں میں جاری قانونی کارروائیوں سے بھی پتا چلا ہے کہ کچھ لوگوں کو غیر قانونی طور پر پکڑ کر کسی قانونی معیار کا احترام کیے بغیر دوسرے ملکوں میں منتقل کیا گیا‘۔ سٹراس برگھ میں بی بی سی کے نمائندہ ایلکس کروگر کا کہنا ہےکہ سخت الفاظ پر مشتمل یہ رپورٹ مزید تحقیق کے مطالبوں میں وزن پیدا کرے گی۔ اب تک یورپی یونین نے اس معاملے میں تحقیق کرنے سے انکار کیا ہے اگرچہ اس کا کہنا ہے کہ اگر کسی رکن ملک میں خفیہ جیلیں پائی گئیں تو اس ملک کو یورپی یونین میں ووٹ کے حق سے محروم ہونا پڑے گا۔ ذرائع ابلاغ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سی آئی اے کی خفیہ جیلیں پولینڈ اور رومانیہ میں موجود ہیں لیکن ان دونوں ملکوں نے اس الزام کی صحت سے انکار کیا ہے۔ ڈک مارٹی کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس غیر قانونی کام میں ہماری رکن ریاستیں بھی ملوث ہیں یا نہیں‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر اس قسم کا الزام صحیح ثابت ہوا تو متعلقہ ملک کو انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ ان الزامات کا سرکاری سطح پر جواب دیا جائے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی جانب سے گزشتہ ہفتہ کے دورہ یورپ کے دوران کسی قسم کی معلومات کی عدم فراہمی پر افسوس کا اظہار کیا۔
گزشتہ ہفتے کونڈولیزا رائس نے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ قطع نظر اس بات کے کہ امریکی اہلکار اپنے ملک میں کام کریں یا باہر، وہ اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف قوانین کے پابند ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے بین الاقوامی قانون کے ماہر پروفیسر جیمز کراؤفورڈ نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ کے ایک گروپ سے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی تسلی خود کرے اور صرف امریکی یقین دہانیوں پر عمل نہ کرے۔ انہوں نہ کہا کہ ’کسی حکومت کو اس کے کسی ایسے طرز عمل سے جس میں انسانوں پر تشدد کیا جائے اس وجہ سے بری ذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں‘۔ |
اسی بارے میں ریڈکراس کی رسائی محدود: امریکہ09 December, 2005 | آس پاس سی آئی اے جیلیں، جہازجرمنی بھی آئے04 December, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: امریکہ تحقیق کرے گا29 November, 2005 | آس پاس ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس گوانتانامو: قیدی بھوک ہڑتال پر07 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||