دجیل میں کیا ہوا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین پراس وقت سن انیس سو اٹھاسی میں حلبجہ میں پانچ ہزار کردوں کو ایک کیمیاوی حملے میں قتل کرنے اور پہلی جنگ خلیج کے بعد ہزاروں شیعہ اور کرد شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ سابق عراقی صدر سمیت ان کے سات دیگر ساتھیو ں کے خلاف قائم پہلے مقدمے کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ یہ مقدمہ عراق کے دجیل نامی علاقے میں ایک سو اڑتالیس افراد کی ہلاکت سے متعلق ہے۔ یہ علاقہ شیعہ اور سنی ملتی جلتی عرب آبادی کا گاؤں ہے اور بغداد کے شمال میں ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب دجیل کے بہت سے افراد ایران کے خلاف وہ جنگ لڑ رہے تھے جو صدام حسین نے اٹھارہ ماہ قبل شروع کی تھی۔ اس وقت جنگی صورت حال عراق کے خلاف تھی اور صدام حسین کومدد کی ضرورت تھی۔ آٹھ جولائی انیس سو بیاسی کو صدام نے اس علاقے کے دورے کا فیصلہ کیا اور اس دورے کی فلم حکومت کے ایک فوٹو گرافر نے بنائی۔ یہ فلم ابھی حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے اس فلم میں صدام کو وہاں ایک خاندان کےلوگوں، گلیوں میں لوگوں سے ملتے اور مقامی بعث پارٹی کے دفتر کے باہرخوش باش ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جس میں وہ جنگ میں حمایت پر دجیل کے بیٹوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
اس کے بعد منظر تبدیل ہو جاتا ہے جیسے ہی صدر کا قافلہ گاؤں سے باہر جاتا ہے ویسے ہی کھجوروں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ گولیاں برسانی شروع کر دیتا ہے۔ کیمرہ نے ان مناظر کو نہیں فلمایا لیکن اس موقع پر موجود محمد الحتاوی کو وہ سب کچھ بہت اچھی طرح یاد ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب ہم نے گولیوں کی آوازیں سنی تو اس کے بعد ہم نے گاؤں واپس آنے والوں سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ فائرنگ صدر کی تقریبات کا حصہ ہے لیکن دوسروں نے کہا کہ نہیں، صدر کو مار دیا گیا لیکن صدر کو نہیں مارا گیا۔ مسلح بردار غائب تھے اوران میں سے بہت سے صدر کے باڈی گارڈ کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گئے‘۔ ہلاکتوں کی اس کوشش کے حوالے سےعراقی رہنما کا ردعمل بہت غیر متوقع تھا اور وہ بغداد جانے کی بجائے دجیل واپس آئے۔ اس موقع پر صدام حسین نے ایک دوسری تقریر کی جس میں انہوں نے دہشت گردوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو گاؤں سےاکھاڑ نے کا وعدہ کیا۔ اس گروہ کو انہوں نے غیر ملکی ایجنٹ کہا اس سے ان کا مطلب ایرانیوں سے تھا۔ اس واقعے کے اگلے چند دنوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے بعد بہت سے افراد صدر کو قتل کرنے کی سازش کے جرم میں گرفتار کرلیے گئے۔ اس آپریشن میں ٹینکوں اور ہوائی جہازوں نے بھی حصہ لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں گن مین کریم کے والد خادم جعفر بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ میرے سارے خاندان کو لے گئے۔ تقریبا ہم ایک سو پچاس کے قریب تھے۔ وہ ہمیں انٹیجلنس ہیڈ کوارٹر لے گئے جہاں ہم ایک ماہ رہے اس کے بعد دو سال ابوغریب میں اور پھرانہوں نے ہمیں صحرا میں بھیج دیا‘۔ خادم کی طرح بہت سےگرفتار ہونے والے لوگ واپس دجیل نہیں آئے بلکہ ممکن ہے کہ سن انیس سو پچیاسی کے آخر تک نہیں مار دیا گیا ہو۔ صدام کے مقدمہ میں استغاثہ کو اب یہ ثابت کرنا ہے کہ ان تمام واقعات میں صدام حسین ذاتی طور پر ملوث تھے۔ عدالتی معاملات کے ماہر ایک وکیل پروفیسر مائیکل شارف کا کہنا ہے کہ ’استغاثہ کو جو بات ثابت کرنا ہے وہ یہ ہے کہ صدام نے اس سارے عمل کے احکامات جاری کیے لیکن یہ اس لحاظ سے مشکل ہے کیونکہ صدام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریری طور پر احکامات نہیں دیتے تھے کیونکہ وہ کوئی نشان نہیں چھوڑنا چاہتے تھے‘۔ پروفیسر کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے دجیل کو پہلے کیس کے طور پراس لیے منتخب کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں صدام کے خلاف اس کیس میں جان ہے اور اس سلسلے میں تمام شہادتوں اور ضروری کاغذی ثبوتوں پر تفتیش کار کئی مہینوں سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت میں ثبوتوں کے پیش ہونے کے بعد ہی اس کیس کے مضبوط ہونے کا علم ہو سکے گا اور اس کے بعد دجیل کے لوگ یقین کے ساتھ یہ جان سکیں گے کہ ان کے رشتہ دار کیسے مرے۔ | اسی بارے میں اکتوبر: صدام کے خلاف مقدمہ 03 September, 2005 | آس پاس ’صدام نے ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے‘07 September, 2005 | آس پاس صدام کے مقدمے پر سب کی نظر20 October, 2005 | آس پاس صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل 08 November, 2005 | آس پاس امام کی’توہین‘ پرصدام کی پٹائی17 November, 2005 | آس پاس صدام دور جیسا حال ہے: علاوی27 November, 2005 | آس پاس صدام پر مقدمہ ساز کے قتل کی سازش 27 November, 2005 | آس پاس صدام حسین عدالت میں گرجتے رہے28 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||