صدام کے مقدمے پر سب کی نظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق رہنما صدام حسین پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں مقدمے کی پہلی پیشی کے دوران پورا عالم عرب ٹیلیوژن پر نظریں جماۓ رہا۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے بارے میں ردعمل ملا جلا تھا تاہم زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ صرف دکھاوے کا ہے اور اس کے پیچھے ڈوریاں کھینچنے والے باہر کے لوگ ہیں۔ صدام حسین کی بیٹی رغد صدام حسین نے مقدمے کو ڈھکوسلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ہم سب نے یہ مقدمہ آج دیکھا ہے اور ہم نے اس کے بارے میں خود فیصلہ کیا ہے۔ اس ڈھکوسلے کے بارے میں ہم سب کا فیصلہ ایک ہی ہے۔ لیکن ایک عربی اخبار الحیات کا کہنا ہے کہ صدی کے سب سے بڑے مقدمے میں صدام حسین اور ان کا پورا دور کٹہرے میں ہے۔ عالم عرب کے ٹیلیوژن چینلوں نے اگرچہ صدام حسین اور عدالت میں پیش ہونے والے ان کے دوسرے ساتھیوں کے مظالم کو دبانے یا چھپانے کی کوشش نہیں کی مثلاً الجزیرہ نے بعض دل دہلادینے والے مناظر بھی اپنے خصوصی پروگرام میں دکھائے لیکن عام طور سے عراقی اور عرب سیاست دانوں اور مبصروں نے اس مقدمے کو بہت تنقیدی نگاہ سے دیکھا۔ کسی نے اسےڈھکوسلہ کہا تو دوسرے نے امریکی اور عراقی حکام کی اس کوشش سے تعبیر کیا کہ ملک کے عظیم مسائل سے توجہ بٹانے کی ایک کوشش ہے۔
ایک معتبر اخبار کے ایڈیٹر نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جرائم پر زیادہ زور دیا۔ الجزیرہ نے مصر سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں انٹرویو دینے والوں کی اکثریت نے مقدمے کی مخالفت کی تھی اورصدام حسین کو ہیرو کہہ کر یاد کیا تھا۔ الجزیرہ کے حریف چینل العربیہ نے دجیل سے ایک رپورٹ پیش کی جس کے ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کے الزام میں یہ مقدمہ شروع ہوا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا تھا کہ ٹیلیوژن کے گرد جمع لوگ مقدمے کی بوریت کی شکایت کر رہے تھے ۔ عالم عرب سے باہر سی این این اور فاکس کی طرح کے خبری چینلوں نے جو صبح شام صدام حسین کو ظالم اور جابر کہتے ہیں، گھنٹوں مقدمے کی کارروائی کے لیے وقف کردیے۔ فاکس نیوز نے نائب صدر ڈِک چینی کی بیوی کا انٹرویو کیا۔ جنہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ثابت کرتا ہے کہ ظلم کا جواب قانون کی عملداری سے دیا جاسکتا ہے۔ امریکی چینلوں نے بتایا کہ صدر بش نے کارروائی تو نہیں دیکھی لیکن انہیں پوری طرح باخبر رکھا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||