صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے ساتھ مقدمات کا سامنا کرنے والے ایک ملزم کے وکیلِ صفائی کو بغداد گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایک اور وکیل زخمی ہو گئے ہیں۔ وکیلِ صفائی عادل الزبیدی اور ان کے ساتھی ثمیر ہمود الخوزئی ایک کار میں جا رہے تھے کہ مسلح افراد نے ان کی کار پر فائرنگ شروع کر دی۔ عادل موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ثمیر فائرنگ میں شدید زخمی ہو گئے۔ گزشتہ ماہ بھی ایک اور وکیلِ صفائی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ صدام حسین اور ان کے سات ساتھی 1982 میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے 140 افراد کے قتل کے الزام میں ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ منگل کو ہلاک ہونے والے وکیلِ صفائی صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان ابراہیم التکریتی اور سابق نائب صدر طاحہٰ یٰسین رمضان کا دفاع کر رہے تھے۔ ان کے ساتھی وکیل خامص العبیدی نے بتایا کہ دونوں وکلاء پر حملہ عادل کے علاقے میں ہوا۔ بیس اکتوبر کو صدام حسین کے مشہور مقدمے کے شروع ہونے کے ایک دن بعد ایک اور وکیل سعدون ناصوف الجنابی کو بغداد میں ان کے دفتر سے اغوا کر لیا گیا تھا اور بعد میں ان کی لاش ملی تھی۔ صدام حسین کے وکلاء صفائی نے کہا ہے کہ اس طرح کے حالات میں عراق میں اس مقدمے کو جاری رکھنا بہت مشکل ہے اس لیے اسے کسی اور ملک میں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب گواہ ہی گواہی دینے سے ڈرے ہوں گے تو انصاف پر مبنی مقدمہ کیسے ہو گا۔ العبیدی نے وکلاء کی ہلاکتوں کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا اور کہا کہ حکومت کو شہریوں کی جان کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ | اسی بارے میں صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل22 October, 2005 | آس پاس ’میں بے گناہ ہوں، تم کون ہو‘؟20 October, 2005 | آس پاس عراق: سنی وزیر کے مشیر ہلاک 18 October, 2005 | آس پاس عراق: بمباری سے ستّر افراد ہلاک17 October, 2005 | آس پاس صدام کے مقدمے پر سب کی نظر20 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||