’میں بے گناہ ہوں، تم کون ہو‘؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول عراقی صدر صدام حسین کے خلاف عراقی دارالحکومت بغداد میں خلاف انسانیت جرائم کے الزام کے مقدمے کے آغاز میں ہی صدام حسین نے عدالت کی قانونی حیثیت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی شناخت کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے چیف جج کو کہا کہ ’تم کون ہو؟ یہ سب کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ان کے علاوہ سات دوسرے افراد نے بھی 1982 میں ایک سو چالیس سے زائد اہلِ تشیع کو ہلاک کرنے کا حکم دینے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ تین گھنٹے جاری رہنے کے بعد مقدمے کو اٹھائیس نومبر تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ صدام حسین کا دفاع کرنے والی ٹیم نے کہا ہے کہ اسے تیاری کے لیے مزید وقت چاہیئے جبکہ چیف جج سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ صدام حسین کے خلاف گواہی دینے والوں کا نہ آنا تھا۔ یہ ان کے خلاف چلائے جانے والے ان مقدمات کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے جن کے بارے میں اب تک متعدد اعلانات کیے گئے ہیں۔ صدام حسین کا مقدمہ اس عمارت میں شروع ہوا جو کبھی صدام حسین کی باتھ پارٹی کی نیشنل کمانڈ کا صدر دفتر ہوا کرتا تھا۔ صدام حسین کو دو گارڈ بازووں سے پکڑ کر لائے۔ ایک جگہ پر انہوں نے گارڈز کو کہا کہ آہستہ چلیں۔ جب جج رزگار محمد امین نے، جو کہ خود کرد ہیں، صدام حسین سے کہا کہ اپنے نام کی تصدیق کریں تو صدام حسین کا جواب تھا ’میں عراق کا صدر ہونے کا اپنا آئینی حق رکھتا ہوں۔ میں اس ادارے کو نہیں مانتا جس نے تمہیں یہ اختیار دیا ہے اور میں اس زبردستی کو نہیں تسلیم کرتا۔ ’جو ناانصافی پر مبنی ہے اور غیر منصفانہ ہے۔۔۔ میں پورے ادب کے ساتھ اس مبینہ عدالت کو جواب نہیں دوں گا‘۔ اس کے بعد جب عدالت ملتوی کر دی گئی تو ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ صدام اور ان کو بازوؤں سے پکڑ کر لے جانے والے گارڈز میں ہلکی سے ہاتھا پائی ہوئی۔ یہ مقدمہ 1982 میں 148 افراد کی ہلاکتوں پر بنایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان ہلاکتوں کا حکم صدام حسین نے بغداد کے شمال میں الدجیل کے مقام پر خود پر مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||