BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 07:25 GMT 12:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل
عراقی وکیل سعدون الجنابی
سعدون الجنابی صدام حسین اور ان کے ساتھیوں پر چلنے والے مقدمے کے اہم وکیل تھے
عراق میں صدام حسین کے ایک ساتھی کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔

سابق جج سعدون الجنابی معزول عراقی صدر صدام حسین کے ساتھی عواد حماد البندر کے وکیل تھے اور انہیں جمعرات کو ان کے دفتر سے مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

سعدون کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور ان کی لاش بغداد کی فردوس مسجد کے باہر سے ملی۔

عراقی حکومت نے اس قتل کی مذمت کی ہے جبکہ سابق عراقی نائب وزیرِاعظم طارق عزیز کے وکیل بدی عزت عارف کا کہنا تھا کہ ’ اگر وہ وکلاء کی حفاطت نہیں کر سکتے تو وہ ان گواہوں کی کیسے حفاظت کریں گے جو گواہی دینے کے لیے عدالت کے سامنے آئیں گے‘۔

صدام حسین کے مرکزی دفاعی وکیل عبدالحق علانی نے بی بی سی کو بتایا کہ’اس واقعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ عراق میں موجودہ حالات میں منصفانہ مقدمہ نہیں چل سکتا کیونکہ وہاں کسی کی حکومت ہی نہیں ہے۔ ان حالات میں کوئی گواہ کیسے گواہی دینے آئے گا اور اگر ایسے ہی وکیل قتل ہوتے رہے تو کسی بھی بین الاقوامی وکیل کو کس طرح اس مقدمے کی پیروی کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے‘۔

ادھر معزول عراقی صدر صدام حسین کے خلاف عراقی دارالحکومت بغداد میں خلاف انسانیت جرائم کے الزام کے مقدمے کے آغاز میں ہی صدام حسین نے عدالت کی قانونی حیثیت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ان کے علاوہ سات دوسرے افراد نے بھی 1982 میں ایک سو چالیس سے زائد اہلِ تشیع کو ہلاک کرنے کا حکم دینے کے الزام سے انکار کیا۔

تین گھنٹے جاری رہنے کے بعد مقدمے کو اٹھائیس نومبر تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ صدام حسین کا دفاع کرنے والی ٹیم نے کہا ہے کہ اسے تیاری کے لیے مزید وقت چاہیے جبکہ چیف جج سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ صدام حسین کے خلاف گواہی دینے والوں کا نہ آنا تھا۔

صدام حسین اور ان کے سات ساتھیوں پر مقدمے کی کارروائی گزشتہ بدھ کو سخت حفاظتی انتظامات میں شروع ہوئی تھی۔ یہ ان کے خلاف چلائے جانے والے ان مقدمات کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے جن کے بارے میں اب تک متعدد اعلانات کیے گئے ہیں۔

اس مقدمے کے پانچ میں سے چار ججوں اور زیادہ تر وکلائے استغاثہ کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں اور صرف چیف پراسکیوٹر اور چیف جج کے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔

وکلائے صفائی کے نام مخفی نہیں رکھے گئے اور صدام حسین کے مرکزی وکیل خلیل دلیمی کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کو دھمکیاں بھی مل رہی ہیں تاہم اب ایک وکیل کے قتل کے بعد حکومت نے تمام وکلائے صفائی کو حفاظت میں لینے کی پیشکش کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد