صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول عراقی صدر صدام حسین کے خلاف عراقی دارالحکومت بغداد میں خلاف انسانیت جرائم کے الزام کا مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ ان کے خلاف چلائے جانے والے ان مقدمات کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے جن کے بارے میں اب تک متعدد اعلانات کیے گئے ہیں۔ عراق کے سابق رہنما پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نہ 1982 میں ایک سو چالیس سے زائد اہلِ تشیع کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان ہلاکتوں کا حکم انہوں نے بغداد کے شمال میں الدجیل کے مقام پر خود پر مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد دیا تھا۔ مقدمے کی ابتداء وکلاء کے دلائل سے ہو گی اور صدام حسین کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ عدالت سے کہیں گے کہ مقدمے کو کم از کم مزید تین ماہ کے لیے ملتوی کر دیں۔ صدر صدام کے ساتھ دوسرے سات افراد پر بھی مقدمہ چلایا جائے گا اور صدر صدام کے وکلاء کا کہنا ہے وہ (صدام حسین) اپنی بے گناہی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی کمرۂ عدالت تیار کیا گیا ہے اور پورے علاقے میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مقدمے کی سماعت کو ٹیلی ویژن کیمروں سے ریکارڈ بھی کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||