BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 December, 2005, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں ہزارویں سزائے موت
سزائے موت
امریکہ میں مہلک انجیکشن دے کر سزائے موت دینے کا کمرہ
انیس سو چھہتر میں سزائے موت کے دوبارہ نفاذ کے بعد امریکہ میں ایک ہزارویں سزائے موت پر عمل ہونے ہی والا ہے۔

ایک ہزارویں سزائے موت پانے والے کینتھ بوائڈ ہیں۔ان کو دی جانے والی سزا پر شمالی کیرولانا میں عمل کیا جائے گا اور انہیں یہ سزا 1988 میں اپنی بیوی اور سسر کو قتل کرنے کے جرم پر سنائی گئی تھی۔

انہیں موت تک پہنچانے کے لیے تین دوائیں دی جائیں گی۔ پہلی دوا سے انہیں گہری نیند آ جائے گی جب کے دوسری دوا سے ان کا جسم مفلوج ہو جائے گا اور تیسری دوا ان کے دل کو دھڑکنے سے محروم کر دے گی۔

57 سالہ بوائڈ کا کہنا ہے کہ ’موت کی سزا سوائے انتقام کے اور کچھ نہیں‘۔ جب کے ان کی مقتول اہلیہ اور ان کے سسر کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ بوائڈ سزائے موت کا حقدار ہیں۔

اب اس بات کا کوئی امکان نہیں بوائڈ کو موت کی سزا رک سکے کیونکہ سپریم کوٹ میں ان کی آخری اپیل مسترد ہو چکی ہے اور اس کے بعد شمالی کیرولینا کے گورنر مائیک ایزلے نے یہ کہہ کر انہیں معافی دینے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ اس کا کوئی جواز نہیں پاتے۔

بوائڈ کو موت اور زندگی کی اس کشمکش میں رہتے ہوئے گیارہ سال ہو چکے ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے گیارہ سال قبل علیحدگی اختیار کرنے والی اپنی اہلیہ اور سسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

انیس سو چھہتر کے بعد سے امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں موت کی 355، ورجینیا میں 94، اوکلاہاما میں 79، میسوری میں 66، فلوریڈا میں 60، جارجیا میں 39، شمالی کیرولانا میں 38، جنوبی کیرولانا اور البامامیں سے ہر ایک میں 34، لوئزیانا اور ارکنساس میں سے ہر ایک میں 27، اریزونا میں 22، اوہائیو میں 19، انڈیانا میں 16، دیلاوئر میں 14، اللینوائے میں 12، نوادا اور کیلیفورنیا میں سے ہر ایک 11، مسسیپی اور یوتاہ میں سے ہر ایک میں چھ، میری لینڈ اور واشنگٹن میں چار چار، نبراسکا اور پینسلوینیا میں تین تین، کینٹکی، مونٹانا اور اوریگن میں دو دو اور کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، اڈاہو، نیو میکسیکو، ٹینیسی اور وایو منگ میں ایک ایک سزائے موت پر عمل ہوا ہے۔

بوائڈ نے کبھی بھی اپنی غلطی سے انکار نہیں کیا لیکن اس کا کہنا ہے کہ جس دن اس سے یہ غلطی سرزد ہوئی ہے اس کے دماغ پر ویتنام کے تجربات چھائے ہوئے تھے۔

امریکہ میں سزائے موت پر دس سال تک پابندی رہی ہے لیکن 1976 میں سپریم کورٹ نے یہ پابندی ختم کر دی۔ جسں کے بعد سب سے پہلے سزائے موت یوٹاہ میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی گئی۔

اسی بارے میں
باتیں شاہی جلاد کی
06.06.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد