پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد ذاتی طور پر ایک ایسے پروگرام کی منظوری دی تھی جس کے ذریعے بین الاقوامی نجی ٹیلی فون کالز سنی اور ای میلز امریکہ میں پڑھی جاسکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں کو ٹارگٹ کرنا ہے۔ بش کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام دہشتگردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ذریعے کئی امریکی جانیں بچائی بھی گئی ہیں۔ صدر کے مطابق یہ پروگرام ملک کی سکیورٹی ایجنسی چلا رہی ہے اور یہ امریکی قوانین کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ پینتالیس دنوں کے بعد اس پرورگرام کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس پروگرام کو بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ صدر بش نے ان سینیٹرز پر بھی کڑی تنقید کی جنہوں نے جمعہ کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون، پیٹریاٹ ایکٹ، کی تجدید رکوا دی تھی۔ انہوں نے ان پر غیر ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’امریکیوں کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک تجدید رکوا کر انہوں نے امریکی عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ صدر بش نے جو اپنے ہفتہ وار خطاب میں صاف طور پر غصے میں دکھائی دے رہے تھے، کہا کہ نیویارک ٹائمز نے یہ رپورٹ شائع کر کے بھی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے دشمنوں کو وہ اطلاع مل گئی ہے جو انہیں نہیں ملنی چاہیئے تھی۔ بش کی جماعت ریپبلیکن پارٹی اور حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز نے بش کے پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول بش کی جیوری میں حاضری ملتوی03 December, 2005 | آس پاس بش کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان ناقص انٹیلیجنس پر بش کا اعتراف14 December, 2005 | آس پاس بش کا مستقبل جنگ سے وابستہ15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||