ناقص انٹیلیجنس پر بش کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ ناقص انٹلیجنس کی بنیاد پر کیا گیا تھا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے باوجود یہ فیصلہ صحیح تھا۔ عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے واشنگٹن کے وڈرو ولسن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے عراق پر حملے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’صدام حسین ایک خطرہ تھا اور امریکی عوام اور پوری دنیا اب زیادہ محفوظ ہے کیونکہ صدام اب اقتدار میں نہیں ہے۔‘ صدر بش نے کہا کہ ’کئی خفیہ اداروں کا خیال تھا کہ صدام کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے اور یہ سچ ہے کہ یہ رپورٹیں غلط نکلیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدام سے دنیا کو پھر بھی خطرہ لاحق تھا اور وہ ایسے ہتھیار بنانے کے لیے موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ ’امریکی صدر کی حیثیت سے عراق پر حملہ کرنے کے فیصلے کا ذمہ دار میں ہوں اور انٹلیجنس کی خامیوں کو درست کرنے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہے، اور میں ایسا کر کے رہوں گا۔‘ صدر بش نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے انتخابات سے عراق میں پہلی مرتبہ ایک جمہوری پارلیمینٹ کا قیام ہوگا اور مشرق وسطی میں جمہوریت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’عراق میں آزادی سے دمشق سے لے کے کر تہران تک اصلاح پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔‘ رائے شماری کے حالیہ جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر امریکی شہری عراق کے حوالے سے صدر بش کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ بدھ کو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق انسٹھ فیصد امریکی شہری عراق میں صدر بش کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے۔ کچھ ارکان پارلیمان نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکی افواج کو کب تک عراق میں رہنا چاہیے۔ صدر بش نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی فوج اس وقت تک عراق میں موجود رہے گی جب تک عراقی سکیورٹی عملہ اس قابل نہیں ہو جاتا کہ وہ ملک کی حفاظتی ضروریات کو پورا کر سکے۔ صدر بش نے کہا کہ ’ایک مستحکم عراق، عراقی اور امریکی عوام کے لیے ضروری ہے۔‘ اس سے پہلے صدر بش عراقی انتخابات اور ملک کے فوجی اور اقتصادی حالات پر تقاریر کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں عراقی تارکین وطن کی ووٹنگ شروع14 December, 2005 | آس پاس مکمل فتح سے کم کچھ بھی نہیں: بش30 November, 2005 | آس پاس عراق سے نہیں جائیں گے: جارج بش22 September, 2005 | آس پاس ’عراق کے معاملے پر صبر سے کام لیں‘28 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||