مکمل فتح سے کم کچھ بھی نہیں: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں اپنی حکومت کے لائحـۂ عمل کی تفصیل بتاتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ قبل از وقت امریکی افواج کی واپسی سے دہشت گردوں کے حوصلے مضبوط ہوں گے۔ صدر بش نے ایک اہم خطاب میں کہا کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور انہیں دہشت گردوں کے خلاف مکمل فتح سے کم کچھ بھی قبول نہیں ہوگا۔ عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے لیے لائحۂ عمل کی تفصیل بتاتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ان کی حکمتِ عملی کے تین نکات ہوں گے: سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی سطح پر امریکہ عراق میں جمہوری اداروں کے فروغ میں مدد کرے گا اور سکیورٹی کی سطح پر امریکی افواج عراق سے دہشت گردوں کو نکالنے کا کام کرینگے اور اس کام میں عراقی فورسز کی مدد کریں گے تاکہ وہ پیش قدمی کرسکیں۔ اقتصادی سطح پر صدر بش نے کہا کہ امریکہ ایک مستحکم عراق کی تعمیر میں مدد کرے گا۔ میریلینڈ میں ایک ملٹری اکیڈمی سے اپنے خطاب میں جارج بش عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں ’فتح کے لیے ایک قومی لائحۂ عمل‘ پیش کررہے تھے۔ صدر بش نے کہا کہ عراق کے بیشتر علاقوں میں سکیورٹی کی ذمہ داری عراقی فورسز کے ہاتھوں میں ہے اور امریکہ کی اتحادی افواج مزید عراقی افواج، سِول ڈیفنس فورسز اور پولیس کی تربیت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے عراقی فورسز مزید کنٹرول حاصل کریں گی امریکی افواج اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گی اور گھر واپس واپس ہوں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک ضرورت پڑی امریکی افواج عراق میں رہیں گی اور مزید ضرورت پڑی تو عراق میں امریکی افواج کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔ صدر بش نے کہا کہ عراق سے قبل از وقت امریکی افواج کی واپسی سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوجائیں گے، عراقی عوام میں کنفیوژن پھیلے گا اور دنیا کو ایک پیغام ملے گا کہ امریکہ کمزور اور غیرمعتبر ہے۔ جارج بش نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ تنازعۂ عراق پر پیدا ہونے والے اختلافات امریکی فوجیوں کے لئے پریشان کن ہیں لیکن امریکی عوام کی ان کی حمایت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت ہی ہے جس میں اس طرح کا بحث و مباحثہ ممکن ہورہا ہے، چاہے یہ امریکہ میں ہو یا عراق کی سڑکوں پر۔ اپنے خطاب میں جارج بش نے عراق سے امریکی افواج کی واپس کے لئے ’غیرحقیقی ڈیڈلائن‘ دینے سے انکار کردیا۔ جارج بش یہ خطاب ایک ایسے وقت منعقد کیا گیا ہے جب ان کی حکومت پر عراق سے واپسی کے لئے شدید دباؤ ہے۔ بش انتظامیہ نے عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں ’فتح کے لیے ایک قومی لائحۂ عمل‘ نامی دستاویز بھی جاری کیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی جنگ ایک ٹائم ٹیبل کے تحت نہیں جیتی گئی ہے اور نہ ہی یہ جنگ جیتی جائے گی۔‘ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جارج بش کے خطاب کا مقصد امریکیوں کی یقین دہانی کرانا تھا کہ جو بش انتظامیہ کی عراق پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||