بش کے امیدوار سینٹ کے سامنے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے لیے صدر بش کے امیدوار سیمول الیٹو کے انتخاب کے سلسلے میں سینٹ میں سماعت کا آغاز ہو رہا ہے۔ پچپن سالہ الیٹو قدامت پسند ہیں۔ خیال ہے کہ ان سے اسقاط حمل اور دوران جنگ صدر کے اختیارات کے بارے میں ان کے خیالات کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے۔ اگر ان کی نامزدگی سینٹ نے منظور کر لی تو وہ جسٹس سندرا ڈے کی جگہ لیں گے جنہوں نے گزشتہ سال ریٹائرمنٹ کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ صدر بش کے پہلے امیدوار ہیریٹ میئرز نے پارٹی کی نامنظوری کے بعد اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ صدر بش نے الیٹو کے انتخاب کی حمایت کی اور سینٹ سے مطالبہ کیا کہ انہیں سماعت کا پورا موقع دیا جائے۔ سماعت کا آغاز الیٹو اور پینل کے ممران کی تقریروں سے ہونے کی توقع ہے۔ دوسرے اور تیسرے دن الیٹو پینل ممران کے سوالات کے جوابات دیں گے۔ نامہ نگاروں کے مطابق انہیں کافی سخت سوالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ ان کے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ اسقاط حمل کے خلاف ہیں اور وہ اپنے عہدے کو اس کے خلاف استعمال کریں گے۔ ’ڈیموکریس‘ کا کہنا ہے کہ وہ بہت زیادہ قدامت پسند ہیں اور اپنے عدالتی کام کو بھی انہیی خیالات کے مطابق چلائیں گے۔ انہوں نے الیٹو کی نامزدگی کو روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ تاہم قدامت پسند ’ریپبلکن‘ اور اسقاط حمل کی مخالف لابی ان کی نامزدگی سے خوش ہیں۔ سینٹ میں ریپبلکن پارٹی کے پاس سو میں سے پچپن سیٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔ خدشہ ہے کہ ڈیموکریٹ ان کی نامزدگی کو کنفرم ہونے سے روکنے کے لیے شور مچا کر بحث روکنے کا ہتھکنڈا استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکہ میں عدالت عظمیٰ کا جج بہت زیادہ اختیارات کا حامل عہدہ ہے اور اس پر فائز شخص کی ریٹائرمنٹ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ عہدہ سے برخواستگی صرف موت، استعفے یا مواخذے کی صورت میں ہی ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||