ایران روس جوہری مذاکرت ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران اور روس کے مابین جوہری تحقیق سے متعلق مذاکرات کا دو روزہ دور ختم ہوگیا ہے۔ ماسکو میں کیے گئے مذاکرات کی بنیاد روس کی وہ تجویز تھی جس کے مطابق اس نے ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کے لیے اپنی تنصیبات کی پیشکش کی تھی۔ ایرانی وفد ماسکو سے اپنے وطن واپس روانہ ہوگیا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ان مذاکرات کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے بات چیت کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگی لاورو نے کہا ہے کہ مذاکرات کو ابھی ’ناکام‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق اب اگلا اقدام یہ ہوگا کہ مارچ میں ویانا میں اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ آئی اے ای اے ایرانی تعاون سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ جس کے بعد سلامتی کونسل ممکنہ طور پر کارروائی کرسکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کا کہنا ہے ایران تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ جوہری معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران روس کے مجوزہ منصوبے کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ روسی تجویز کو کئی حلقے ’ایرانی سمجھوتے‘ کے لیے آخری موقع قرار دے رہے ہیں۔ ایران پہلے یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پر یورینیم افژودہ کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران روس مذاکرات کے پہلے روز کے خاتمے پر ایران نے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے نتائج سے قطع نظر یورینیم سے متعلق حالیہ تحقیقاتی پروگرام جاری رکھے گا۔ ایران سے باہر یورینیم افژودہ کرنے کا مجوزہ منصوبہ بنیادی طور پر روس ہی نے پیش کیا تھا تاکہ مغربی ممالک کے خدشات کو دور کیا جاسکے۔ فروری کے آغاز میں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے نے فیصلہ دیا تھا کہ ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب تہران نے کہا تھا کہ اگر اس کا معاملہ سلامتی کونسل میں بھیجا گیا تو وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کے سلسلے میں تمام تر تعاون ترک کردے گا، اور اس کے بعد کسی بھی سمجھوتے کے لیے رستہ بند ہوجائے گا۔ ایران نے حال ہی میں یورینیم کی افزودگی پر تحقیق بحال کردی ہے جسے ماضی میں معطل کردیا گیا تھا۔ اگرچہ ایران ابھی پوری طرح سے یورینیم افزودہ نہیں کررہا۔ تاہم مغربی قوتیں پھر بھی تشویش کا شکار ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری تحقیق محض توانائی پیدا کرنے کے لیے ہے اور اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘20 February, 2006 | صفحۂ اول ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس ایران کا فیصلہ کل ہو گا02 February, 2006 | آس پاس ویانا اجلاس: ایران کے معاملے پرغور02 February, 2006 | آس پاس ’معاملہ نازک ہے، بحرانی نہیں‘03 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||