BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کا فیصلہ کل ہو گا
ایران
ایران کا معاملہ نازک مگر بحرانی نہیں: البرادعی
جوہری توناائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ کا ویانا میں ہونے والا ہنگامی اجلاس جمعرات کو ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھیجنے کے مسئلہ پر بغیر کوئی فیصلہ کیئے ختم ہو گیا ہے۔

بورڈ کے ممبران جمعہ کو اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے دوبارہ مل رہے ہیں۔

اگر ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سیکورٹی کونسل میں بھیجنے پر اتفاق ہو گیا تو ایران پر بین الاقوامی اقتصادی پابندی لگنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اس معاملے پر مارچ کے آخر تک کوئی اقدام نہیں کرئے گی۔

انہوں نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیئے کی جانے والی تحقیق بند کر دے اور ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے۔

ایران نے کہا ہے کہ اگر آئی اے ای اے نے اس کے جوہری پروگرام کا معاملہ سکیورٹی کونسل کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ آئی اے ای اے سے تعاون بند کردے گا اور یورینیم افزودہ کرنے کے پروگرام کو وسیع کر دے گا۔

واشنگٹن میں امریکہ کےخفیہ ادارے کے سربراہ جون نگروپونتے نے کہا ہے کہ ایران کے پاس غالباً ابھی ایٹم بنانے کے ذرائع نہیں ہیں۔

سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ایران کے پاس ابھی جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور اس نے ابھی ان ہتھیاروں کو بنانے کے لیے ضروری مودا بھی حاصل نہ حاصل کیا ہے اور نہیں ہی بنایا ہے۔

ایران میں جوہری پروگرام جاری رکھنے کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں

اس سے قبل محمد البرداعی نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری مسئلہ کے حوالے سے ایک اہم مرحلے میں داخلے ہوگئے ہیں تاہم انہوں نے اس صورت حال کو بحرانی نہیں قرار دیا۔

سفارت کاروں کے مطابق آئی اے ای اے کا پینتیس رکنی بورڈ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنے کی قرار داد کو باآسانی منظور کر لے گا۔ دریں اثناء روس نے بھی اس قرار داد کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روس کی طرف سے یہ اعلان ایران کے اس دعویٰ کے بعد کیا گیا ہے کہ اسے روس کی حمایت حاصل ہے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، امریکہ، فرانس، چین اور روس کے علاوہ جرمنی گزشتہ سوموار کو قرار داد کے مسودے پر متفق ہو گئے تھے۔

تاہم اگلے دو دن تک اس مسود میں معمولی ترامیم کی جاتی رہیں کیونکہ روس کا اصرار تھا اس مسودے میں بین الاقوامی قوانین کی اس شقوں کا حوالہ نہیں دیا جانا چاہیے جن سے اقتصادی پابندیاں لگانا لازمی ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد