ایران پر لندن میں غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک پیر کو لندن میں ایک کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ دریں اثناء امریکہ میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے قوت کے استعمال پر سیاسی حلقوں میں اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینئر اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے آخر کار امریکہ کو فوجی راستہ ہی اختیار کرنا پڑےگا۔ اسی دوران جوہری ہتھیاروں کے پھلاؤ کو روکنے کے عالمی ادارئے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ نہیں سکتے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لندن کانفرنس کانفرنس کے آغاز پر برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کو مناسب یقن دہانیاں فراہم کرنے کی ذمہ داری ایران پر ہی عائد ہوتی ہے۔ سعودی ردعمل انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اور ایران سمجھتے ہیں مغربی دنیا جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے دوہرے معیار کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کو اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں تو کوئی اعتراض نہیں لیکن دوسری طرف وہ کسی اسلامی ملک کو وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی۔ ’صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے‘ نیوز ویک میگزین کو دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تین برس کی چھان بین کے بعد بھی وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے اور نہ کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ امریکی سیاسی حلقے حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ڈیان فانسٹائن نے کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنالیے تو وہ انہیں اسرائیل کے خلاف ضرور استعمال کرے گا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے اگلے صدارتی انتخاب کے متوقع امیدوار سینیٹر ایون بہ نے کہا کہ ایران کے خلاف قوت کے استعمال سے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی ردعمل صحافی صدیقہ صباح نے تہران سے اپنے مراسلے میں اطلاع دی ہے کہ ایرانی عوام میں اقوام متحدہ کی طرف سے اقتصادی پابندیایوں کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ صدر احمدی نژاد کی حکومت ابھی تک جوہری پروگرام کو قومی وقار کا مسئلہ بنا کر عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔تاہم اب لوگوں نے تصادم کی پالیسی اختیار کرنے کے فیصلہ پر اعتراض کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ عام آدمی اقتصادی پابندیوں کی صورت میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں متفکر ہے۔ سرکاری اہلکار اقوام متحدہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں عائد کرنے کی دھمکیوں کو کھوکھلی قرار دے رہےہیں۔ ان کے مطابق اقتصادی پابندیاں لگنے سے تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوگا جو کہ مغربی ملکوں کے اپنے حق میں نہیں۔ ایران کے اقتصادی ماہرین کاخیال ہے کہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں ایرانی کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||